بحری جہاز پکڑنے کی ایرانی کوششوں کے جواب میں ایف 16 طیارے خلیج بھیج رہے: پینٹاگون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے بحری جہازوں کو پکڑنے اور سفر سے روکنے کی کوششوں کے تناظر میں امریکہ اس علاقے میں گزشتہ ایک ہفتے سے ’’ اے 10 ‘‘ لڑاکا طیارہ اڑا رہا ہے۔ تاہم امریکہ نے اعلان کردیا ہے کہ وہ اس ہفتے کے آخر میں خطے میں ’’ ایف 16‘‘ طیاروں کا نیا بحری بیڑہ خلیج میں بھیجے گا۔ یہ اقدام ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تیل کے بحری ٹینکرز پر قبضہ کی ایرانی کوششوں کے جواب میں کیا جارہا ہے۔

سینئر امریکی فوجی اہلکار نے روس، ایران اور شام کے درمیان بڑھتے ہوئے قریبی تعلقات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ تینوں ممالک امریکہ کو شام سے باہر دھکیلنا چاہتے ہیں۔

امریکی فوج کی طرف سے تازہ ترین اعلان شام میں روس کے غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ رویے کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کے لیے ’’ ایف 22 ریپٹرز‘‘ کے بیڑے کو روانہ کیے جانے کے چند ہفتوں بعد سامنے آیا ہے۔

سینئر امریکی عہددیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکہ کے لڑاکا طیارے ’’ اے 10‘‘ ڈیڑھ ہفتہ سے آبنائے ہرمز اور وسیع تر خلیجی علاقوں پر پرواز کر رہے ہیں۔ اس موجودگی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہم اس ہفتے کے آخر میں ایف سولہ اڑانا شروع کر رہے ہیں۔

عہدیدار نے کہا نئی فضائی موجودگی سے امریکہ کو اچھی نگرانی کا موقع ملے گا۔ امریکہ دیکھ سکے گا کہ خطے میں کون سے بحری جہاز ہیں، وہ کیا لے جاتے ہیں اور ان کا مالک کون ہے۔ اس اقدام سے امریکہ کو زیادہ بہتر اندازہ ہوگا کہ کن بحری جہازوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

امریکی بحریہ کے مطابق ابھی گزشتہ ہفتے ہی ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب تیل کے دو ٹینکوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی اور ان میں سے ایک پر گولیاں چلائی تھیں۔

امریکی فوجی عہدیدار نے کہا کہ جیٹ طیاروں کو گولہ بارود سے لیس کیا گیا ہے۔ ان طیاروں میں لیزر گائیڈڈ بم بھی ہیں جو تیز کشتیوں کے خلاف جانے کے لیے کارآمد ہوں گے۔

امریکی عہدیدار نے کہا ’’ اے 10 ‘‘ طیارہ نے اپنی قابلیت ثابت کی ہے۔ یہ مخصوص طیارہ اس ماحول میں کارگر ہے جہاں فضائی خطرات یا سطح سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کے خطرے سے متعلق کوئی تشویش نہ ہو۔

واضح رہے گزشتہ ہفتے کے دوران روسی لڑاکا طیاروں نے شام میں داعش مخالف مشن کے دوران تین الگ الگ مرتبہ امریکی ڈرونز کو ہراساں کیا اور بعض صورتوں میں ان کے سامنے شعلے گرائے۔ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے اعلیٰ فوجی جنرل نے خبردار کیا ہے کہ روس کی بار بار خلاف ورزیاں خطے میں ایک اہم حفاظتی مسئلہ بن رہی ہیں۔ روس گزشتہ کئی مہینوں میں درجنوں بار ایسی خلاف ورزی کر چکا ہے۔

اس طرح کے اشتعال انگیز رویے کے پیچھے ممکنہ روسی مقاصد کے بارے میں پوچھے جانے پر عہدیدار نے کہا کہ جیسا کہ روسی اور ایران خود کو ایک دوسرے کے قریب کر رہے ہیں۔ دونوں اطراف کی دلچسپی ہے کہ ہمیں شام سے باہر دھکیل دیا جائے۔ اس کے لیے ہم پر دباؤ ڈالنے کی مہم چلائی جا رہی ہے۔ عہدیدار نے کہا کہ بشار الاسد حکومت یقینی طور پر چاہتی ہے کہ ہم چلے جائیں کیونکہ وہ جنگ زدہ ملک پر خودمختاری کو دوبارہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں