داعش میں ہزاروں جنگجوؤں کو بھرتی کرنے والے امریکی کو عمر قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی محکمہ انصاف نے اعلان کیا کہ کوسوو میں پیدا ہونے والے ایک امریکی جس نے دولتِ اسلامیہ عراق و شام (داعش) کے لیے ہزاروں جنگجو بھرتی کرنے میں مدد کی تھی کو جمعے کو دہشت گرد گروہ کی مدد کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔

امریکی وزارت نے کہا کہ 40 سال عمر کے میرساد کنڈیک 2013 اور 2017 کے درمیان داعش کے اعلی عہدے پر فائز رہا۔ اس وقت داعش کو عراق اور شام کے بڑے حصوں پر کنٹرول حاصل تھا۔

میرساد کنڈیک نے 2013 میں نیویارک چھوڑ کر شام کا سفر کیا اور وہاں داعش میں شمولیت اختیار کرلی ۔ وہ حلب کے قریب حریتان قصبے میں جنگجو بن گیا۔

وزارت نے مزید بتایا کہ اس کے بعد اسے شام میں تنظیم کے لیے غیر ملکی جنگجوؤں اور ہتھیاروں کی سمگلنگ میں مدد کے لیے ترکیہ جانے کی ہدایت کی گئی۔

وہ انتہاپسند گروپ کے میڈیا میں بھی ایک "شہزادہ" کی حیثیت رکھتا تھا اور پروپیگنڈے اور بھرتی کے پیغامات آن لائن پھیلاتا تھا ۔ وہ 120 سے زیادہ ٹوئٹر اکاؤنٹس کے ذریعہ پروپیگنڈا مہم چلاتا تھا۔

ایک بھرتی کرنے والے کے طور پر، محکمہ انصاف نے کہا، اس نے "مغربی ممالک سے انتہا پسند ISIS جنگجوؤں کے ہزاروں رضاکاروں کو شام اور مشرق وسطیٰ کے دیگر مقامات پر ISIS کے زیر کنٹرول علاقوں میں بھیجا تھا۔"

اس نے جن رضاکاروں کو بھرتی کیا ان میں سے ایک نیو یارک کا رسلان اسائنوف تھا جو داعش کا ایک سنائپر بنا جس کو فروری میں ایک نامزد دہشت گرد گروپ کو مادی مدد فراہم کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔

ایک اور بھرتی ہونے والا آسٹریلوی لڑکا جیک بلارڈی تھا جسے مارچ 2015 میں ایک خودکش حملے میں 30 سے زائد عراقی فوجیوں کو ہلاک کرنے سے پہلے 2014 میں تنظیم میں شامل ہونے کا لالچ دیا گیا تھا۔

2017 کے اوائل تک میرساد کنڈک ایک فرضی نام کے تحت بوسنیا میں چھپا ہوا تھا۔ اسے جولائی 2017 میں سرائیوو میں گرفتار کیا گیا اور تین ماہ بعد اسے امریکہ کے حوالے کر دیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں