سویڈن: شامی احتجاجی اسرائیلی سفارت خانہ کے باہر تورات جلانے کے ارادے سے دستبردار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں 32 سالہ شخص نے اسرائیلی سفارت خانے کے باہر احتجاجی مظاہرے میں تورات کا نسخہ نذرآتش کرنے کا منصوبہ ترک کرنے کا اعلان کیا ہے اور ہفتے کے روز کہا ہے کہ وہ اپنے اس ارادے سے باز آگیا ہے۔

شام سے تعلق رکھنے والے اس تارکِ وطن نے وضاحت کی ہے کہ اس کا مقصد دراصل نارڈک ملک میں قرآن جیسی مقدس الہامی کتابوں کو جلانے والوں کی مذمت کرنا تھا اور اس کا تورات یا انجیل کے نسخے کو نذرآتش کرنے کا کوئی حقیقی ارادہ نہیں تھا۔

سویڈش پولیس نے جمعہ کو اسٹاک ہوم میں اسرائیلی سفارت خانے کے باہر تورات اور انجیل کے نسخے نذر آتش کرنے سمیت ایک مظاہرے کی اجازت دی تھی۔اسرائیلی صدر اسحاق ہرتصوغ سمیت متعدد نمائندوں اور یہودی تنظیموں نے سویڈش پولیس کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی۔

اس مظاہرے کے منتظم احمد اے نامی شامی نے وضاحت کی کہ ان کا مقصد دراصل مقدس کتابوں کو جلانا نہیں تھا بلکہ حالیہ مہینوں میں سویڈن میں قرآن مجید کو جلانے والے لوگوں پر تنقید کرنا تھا، جس پر سویڈش قانون پابندی نہیں لگاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’یہ ان لوگوں کا جواب ہے جو قرآن کو جلاتے ہیں۔ میں یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ اظہار رائے کی آزادی کی کچھ حدیں ہوتی ہیں،جن کا خیال رکھنا ضروری ہے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’میں یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ ہمیں ایک دوسرے کا احترام کرنا ہوگا، ہم ایک ہی معاشرے میں رہتے ہیں۔اگر میں تورات، کوئی دوسرا بائبل اور کوئی تیسرا شخص قرآن کو جلائے گا تو یہاں ایک جنگ شروع ہو جائے گی۔میں جو دکھانا چاہتا تھا وہ یہ ہے کہ ایسا کرنا درست نہیں ہے‘‘۔

جنوری میں سویڈش اور ڈنمارک کے دائیں بازو کے انتہا پسند سیاست راسمس پالودان نے نیٹو میں سویڈن کی رکنیت کی درخواست اور اس کی اتحاد میں شمولیت کی مخالفت کرنے پر ترکیہ کے سفارت خانے کے باہراحتجاج کیا تھا اور ترکیہ کی مذمت میں بہ طور احتجاج قرآن مجید کا نسخہ نذرآتش کردیا تھا۔

28 جون کو سویڈن میں ایک عراقی پناہ گزین نے عید الاضحیٰ کے موقع پر اسٹاک ہوم کی سب سے بڑی مسجد کے سامنے قرآن مجید کی بے حرمتی کی تھی اور اس کے کچھ صفحات جلائے تھے۔ان دونوں واقعات کے خلاف مسلم دنیا میں سخت غم وغصے پایا جاتا ہے اور سویڈن کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جارہے ہیں۔

اگرچہ سویڈش پولیس نے نشان دہی کی ہے کہ احتجاج کی اجازت کسی مقدس کتاب کو جلانے کی باضابطہ اجازت نہیں ہے ، لیکن ملک میں مقدس کتابوں کو جلانے کی ممانعت کرنے والا کوئی قانون بھی نافذالعمل نہیں ہے۔

تاہم پولیس ایسے کسی مظاہرے کی اجازت دینے سے انکار کر سکتی ہے، اگر اس سے نقضِ امن کا اندیشہ ہو،سلامتی خطرے میں پڑ جائے یا ایسی حرکتوں یا الفاظ کوتقویت ملے جو نسلی منافرت کو ہوا دیتے ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں