مودی کادورۂ ابوظبی:بھارت اور یواےای میں سرحد پارمقامی کرنسیوں میں لین دین کے سمجھوتے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

بھارت کے مرکزی بینک (ریزرو بینک آف انڈیا،آر بی آئی) نے ہفتہ کے روز متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک (سی بی یو اے ای) کے ساتھ سرحد پار مقامی کرنسیوں میں لین دین کو فروغ دینے اور ادائیگی اور پیغام رسانی کے نظام کومنسلک کرنے کے لیے دو سمجھوتے طے کیے ہیں۔

اس ضمن میں مفاہمت کی دو یادداشتوں پر ابوظبی میں آر بی آئی کے گورنر شکتی کانت داس اور سی بی یو اے ای کے گورنر خالد محمد بلاما نے دست خط کیے ہیں۔اس موقع پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان بھی موجود تھے۔

آر بی آئی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ایک سمجھوتے کے تحت مقامی کرنسیوں کے استعمال کے لیے ایک فریم ورک قائم کیا جائے گا۔نیز دوطرفہ تجارت میں بھارتی روپے اوراماراتی درہم کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے مقامی کرنسی سیٹلمنٹ سسٹم (ایل سی ایس ایس) قائم کیا جائے گا۔

مفاہمت کی اس یادداشت کے تحت تمام کرنٹ اکاؤنٹ ترسیلات زر اور کیپیٹل اکاؤنٹ ٹرانزیکشنز کا احاطہ کیا جائے گا۔ توقع ہے کہ اس نظام سے برآمد اور درآمد کنندگان کو اپنی متعلقہ مقامی کرنسی میں انوائس اور رقم اداکرنے میں مدد ملے گی ، جس کے نتیجے میں بھارتی روپے اور اماراتی درہم کی فارن ایکس چینج مارکیٹ کو ترقی دینے میں مدد ملے گی۔

اس انتظام سے دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری اور ترسیلاتِ زر کو بھی فروغ ملے گا۔ آر بی آئی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مقامی کرنسیوں کے استعمال سے لین دین کی لاگت اور لین دین کے لیے تصفیے کے وقت کو بہتر بنایا جاسکے گا ، جس میں متحدہ عرب امارات میں رہنے والے بھارتیوں کی ترسیلات زر بھی شامل ہیں۔

یہ بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعاون کا ایک بہت اہم پہلو ہے۔ اس سے اقتصادی تعاون میں اضافے کی راہ ہموار ہوگی اور بین الاقوامی مالیاتی رابطوں کو آسان بنایا جائے گا۔اس اقدام سے ڈالر میں رقم کے تبادلے کو ختم کرکے لین دین کے اخراجات کو کم کرنے کی ہندوستان کی کوششوں کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

آر بی آئی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مفاہمت کی دونوں یادداشتوں کا مقصد سرحد پار سے بلا تعطل لین دین اور ادائیگیوں کو آسان بنانا اور دونوں ممالک کے درمیان زیادہ سے زیادہ اقتصادی تعاون کو فروغ دینا ہے۔

ادائیگی اور پیغام رسانی کے نظام سے متعلق مفاہمت نامے کے تحت دونوں ملکوں کے مرکزی بینک اپنے ادائی کے تیز رفتار نظام یونیفائیڈ پیمنٹ انٹرفیس (یو پی آئی) کو متحدہ عرب امارات کے انسٹنٹ پیمنٹ پلیٹ فارم (آئی پی پی) سے منسلک کردیں گے۔یہ روپے کو یو اے ای ایس ڈبلیو ایچ کے ساتھ بھی منسلک کرے گا۔اس سے سرحد پار فنڈز کی ہموار منتقلی میں مدد ملے گی اور بالآخر دوسرے ملک میں گھریلو کارڈوں کی قبولیت کی اجازت ملے گی۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی فرانس کے باسٹل ڈے کی تقریبات کے موقع پر پیرس کے سرکاری دورے کے بعد ہفتہ کو ابوظبی پہنچے تھے جہاں وہ مہمان خصوصی تھے اور انھوں نے یواے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کی تھی۔

بعد میں ایک ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ ’’شیخ محمد بن زید آل نہیان سے مل کر ہمیشہ خوشی ہوتی ہے۔ ترقی کے لیے ان کی توانائی اور ویژن قابل ستائش ہے۔ ہم نے ثقافتی اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے طریقوں سمیت بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات کے تمام پہلوؤں پرتبادلہ خیال کیا ہے‘‘۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے جمعہ کے روز ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ بھارت اور متحدہ عرب امارات دو طرفہ تجارت کو طے کرنے کے لیے روپے اور درہم میں ادائیگی کا طریقہ کار شروع کرنے کا اعلان کر سکتے ہیں۔یہ رقم متحدہ عرب امارات سے تیل کے ساتھ ساتھ دیگر درآمدات کی ادائیگی کے لیے بھی استعمال کی جائے گی۔یو اے ای مارچ میں بھارت کو تیل مہیا کرنے والا چوتھا بڑا ملک تھا۔

متحدہ عرب امارات کی ایک کروڑ نفوس پر مشتمل آبادی میں سے زیادہ تر تارکین وطن ہیں اور ان میں بھی 30 لاکھ سے زیادہ بھارتی شہری ہیں۔ بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دوطرفہ تجارت 2022-23 میں 84.5 ارب ڈالر تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں