یونان کشتی حادثے کے بعد سمندر میں مصیبت زدہ افراد کے لیے ریسکیو میکانزم بہترکیا جائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب نے دنیا پر زور دیا ہے کہ وہ سمندر میں حادثے کا شکار لوگوں کے لیے ریسکیو میکانزم کو تیز کرے۔ یونان کے ساحل پر ایک ماہی گیری ٹرالر ایک ماہ پہلے الٹ گیا تھا۔

پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق مجموعی طور پر 104 افراد کو زندہ بچا لیا گیا اور 82 لاشیں ملیں، لیکن زندہ بچ جانے والے افراد کے مطابق 750 افراد، بشمول 300 سے زائد پاکستانی، جہاز پر سوار تھے۔ ان افراد کے اہل خانہ نے حکام سے سمندر کی تہہ سے جہاز کا ملبہ اٹھانے اور لاشیں نکالنے کا مطالبہ کیا۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب اور سفارت کار عامر خان نے پناہ گزینوں اور سیاسی پناہ کے خواہش مندوں پر سلامتی کونسل کے ایک اجلاس سے خطاب میں کہا کہ بحیرۂ روم کی کراسنگ نہایت اذیت ناک ہو گئی ہے۔ انہوں نے حادثے کا شکار لوگوں کے لیے ریسکیو میکانزم میں بہتری کی ضرورت پر زور دیا۔

خبر رساں ایجنسی اے پی پی نے عامر خان کے حوالے سے کہا کہ "بین الاقوامی برادری کے ذمہ دار اراکین کی حیثیت سے یہ ہم سب پر لازم ہے کہ تارکینِ وطن، پناہ گزینوں، اور سیاسی پناہ کے خواہش مندوں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنائیں، بین الاقوامی قوانین بشمول بحری قوانین پر عمل درآمد کریں، اور سمندر میں حادثے کا شکار ہونے والے افراد کی قومیت اور حالات سے قطع نظر، ان کے لیے فوری ریسکیو کا نفاذ کریں۔

انہوں نے کہا کہ مہذب اقوام کی حیثیت سے، اس بات کو یقینی بنانا ہماری ذمہ داری ہے کہ کسی وقت، کہیں بھی، اور کسی بھی طرح کے حالات میں کوئی جان ضائع نہ ہو۔ ہمیں ایسی تمام کوششوں کی ذمہ داری لینا ہو گی جس میں سمندر میں مصیبت زدہ لوگوں کے لیے جہاز سے اتارنے کا ایک شفاف، محفوظ، اور قابلِ پیش گوئی طریقہ کار وضع کرنا بھی شامل ہے۔ ہمیں یہ کام بین الاقوامی ذمہ داریوں کی تعمیل کرتے ہوئے اور انسانی ہمدردی کی کوششوں میں رکاوٹ پیدا کیے بغیر انجام دینا ہے۔"

پندرہ رکنی کونسل کا یہ اجلاس روس نے اریا فارمولے کی صورت کے تحت بلایا تھا جو کونسل کو ایک رازدارانہ، غیر رسمی ماحول میں لوگوں کی بات سننے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

شدت اختیار کرتے انسانی بحران کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستانی ایلچی نے کہا کہ "پناہ گزینوں پر عالمی معاہدے (GCR) نے کلیدی مقاصد کا خاکہ پیش کرتے ہوئے ایک اچھا فریم ورک فراہم کیا۔ یہ فریم ورک میزبان ممالک پر دباؤ کم کرنے، پناہ گزینوں کی خود انحصاری کو بڑھانے، تیسرے ملک کے حل کو وسعت دینے، اور محفوظ اور باوقار واپسی کو سپورٹ کرتا ہے۔ یہ ناجائز اور عدم مساوات پر مبنی ہے اور 'حسب معمول کاروبار' کہہ کر اسے جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ہم پہلے ہی شدید خراب حالات کو مزید تباہ کن ہونے سے روکنا چاہتے ہیں تو ہمیں مزید کام کرنا ہوگا۔"

یہ پرانا ٹرالر ان پاکستانیوں کو لے جا رہا تھا جو ملک کے ناموافق معاشی حالات سے بھاگ کر یورپ میں بہتر زندگی کی تلاش میں جا رہے تھے۔ بنیادی طور پر جنوبی پنجاب اور جنوب مغربی خیبرپختونخوا کے صوبوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان آدمی یورپ میں داخلے کے لیے اکثر ایران، لیبیا، ترکی، اور یونان سے گذرنے والا راستہ اختیار کرتے ہیں۔

گذشتہ ماہ پاکستان کے وزیرِ داخلہ، رانا ثناء اللّٰہ نے کہا تھا کہ ٹرالر پر تقریباً 350 پاکستانی شہری سوار تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں