ایران کی اخلاقی پولیس حجاب کے نفاذ کی نئی مہم میں پھر سڑکوں پر آ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی حکام نے اتوار کے روز خواتین کو سرپوش اوڑھنے کا پابند بنانے کے لیے ایک نئی مہم کا اعلان کیا ہے اور پولیس اپنے زیرحراست ایک خاتون کی ہلاکت کے 10 ماہ بعد سڑکوں پر واپس آ گئی ہے۔

پولیس کے ترجمان جنرل سعید منتظرالمہدی نے کہا ہے کہ اخلاقی پولیس عوامی مقامات پر حجاب نہ پہننے والی خواتین کو مطلع کرنے اور پھر حراست میں لینے کا کام دوبارہ شروع کرے گی۔ تہران میں پولیس کے مرد و خواتین کو نشان زد گاڑیوں میں سڑکوں پر گشت کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

گذشتہ سال ستمبر میں 22 سالہ مہسا امینی کی موت کے بعد پولیس بڑی حد تک پیچھے ہٹ گئی تھی۔اس کی موت کے خلاف بڑے پیمانے احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے۔ تاہم اس سال کے اوائل میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کے بعد مظاہروں میں بڑی حد تک کمی آئی تھی جس میں 500 سے زیادہ مظاہرین ہلاک اور قریبا 20،000 کو حراست میں لیا گیا تھا۔ لیکن بہت سی خواتین نے خاص طور پر دارالحکومت تہران اور دیگر شہروں میں سرکاری ضابطہ لباس کی مخالفت جاری رکھی تھی۔

گذشتہ سال اکتوبر کے بعد اخلاقی پولیس کو شاذ و نادر ہی سڑکوں پر گشت کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا، اور دسمبر میں، کچھ رپورٹس بھی سامنے آئی تھیں کہ اخلاقی پولیس کو تحلیل کر دیا گیا ہے لیکن بعد میں ان کی تردید کردی گئی تھیں۔

ایرانی حکام نے بحران کے دوران میں اصرار کیا کہ قوانین میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ایران کے مذہبی حکمران حجاب کو اسلامی انقلاب کا ایک اہم ستون سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اقتدار میں آئے اور زیادہ کھلے ڈلے لباس کو مغربی زوال کی علامت سمجھتے ہیں۔

گذشتہ موسم خزاں میں حجاب کے خلاف اٹھنے والی احتجاجی تحریک ایک زوردار نعرہ بن گئی تھی۔خواتین نے ان مظاہروں میں قائدانہ کردار ادا کیا تھا۔ یہ مظاہرے تیزی سے ایران کے مذہبی حکمرانوں کا تختہ الٹنے کے مطالبے میں تبدیل ہو گئے تھے۔تاہم ایرانی حکومت نے ثبوت فراہم کیے بغیر ان مظاہروں کو غیر ملکی سازش قرار دیا تھا۔

مظاہروں میں متعدد ایرانی شخصیات نے شرکت کی جن میں ملک کی معروف فلم انڈسٹری کے معروف ہدایت کار اور اداکار بھی شامل تھے۔متعدد ایرانی اداکاراؤں کو حجاب کے بغیر عوامی مقامات پر آنے یا مظاہروں کی حمایت کا اظہار کرنے پر حراست میں لے لیا گیا تھا۔

ایک حالیہ کیس میں اداکارہ آزادہ صمدی کو سوشل میڈیا سے روک دیا گیا تھا اور ایک عدالت نے انھیں 'غیر سماجی شخصیت کی خرابی' کے عارضے کی شکار قراردیا تھا اور انھیں اپنا نفسیاتی علاج کرانے کا حکم دیا تھا کیونکہ وہ دو ماہ قبل سر پر ٹوپی پہن کر ایک جنازے میں شریک ہوئی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں