جاپانی وزیراعظم فومیو کِشیدا کی سعودی عرب آمد، حکام سے ملاقاتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جاپان کے وزیر اعظم فومیو کِشیدا مشرقِ اوسط کے تین روزہ دورے پراتوار کوسعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔ان کے دورے کا مقصد خطے کے ممالک اور جاپان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینا ہے۔

جاپان کی وزارت خارجہ کے مطابق کِشیدا نے سعودی حکام کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں اور ان سے توانائی، جاپانی کاروباری اداروں کے لیے کاروباری مواقع اور جی سیون ہیروشیما سربراہ اجلاس میں بیان کردہ کھلے بین الاقوامی نظام کو فروغ دینے جیسے کلیدی شعبوں میں سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے سے متعلق امورپر تبادلہ خیال کیا ہے۔

سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا کہ ہم جاپان کو تیل کی ترسیل کی ضمانت دیتے ہیں اور سب سے قابل اعتماد شراکت دار کی حیثیت سے اپنی پوزیشن برقرار رکھیں گے۔ سعودی عرب جاپان کا سب سے بڑا تیل برآمد کنندہ ہے اور اس کی کل ضروریات کا 40 فی صد پورا کرتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب صاف ہائیڈروجن اور ری سائیکل شدہ کاربن ایندھن کے شعبے میں جاپان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔ان کا کہنا تھا کہ جاپان کے ساتھ توانائی کے شعبے میں 50 سال سے زیادہ عرصے سے ہمارے تعلقات مضبوط ہیں اور ان میں اضافہ اور تنوع جاری ہے۔

سعودی وزیر برائے سرمایہ کاری خالد الفالح نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے جاپان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کے 26 معاہدوں پر دست خط کیے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’’جاپان مملکت کا تیسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ ہم صاف توانائی کے شعبے میں جاپان کے ساتھ اپنی شراکت داری کو مضبوط کریں گے‘‘۔

وزیر اعظم کِشیدا کا کہنا ہے کہ سعودی عرب جاپان کا ایک اہم تجارتی شراکت دار ہے اور ٹوکیو ویژن 2030 کے اہداف کے حصول کے لیے مملکت کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔

انھوں نے کہا کہ ہم صاف توانائی کے حصول کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سعودی عرب کی مدد کریں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ جاپان سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں سعودی عرب کے ساتھ تعاون کرے گا اور وہ اس کو کان کنی کے شعبے میں اپنی منزل بنانے کا خواہاں ہے۔

یہ جنوری 2020 کے بعد کسی جاپانی رہ نما کا مشرقِ اوسط کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔ کِشیدا پیر کو سعودی عرب سے ابوظبی کے دورے پر روانہ ہوں گے اور اس کے بعد قطر جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں