روس اور یوکرین

روس کے پاس کافی کلسٹر بم ہیں، یوکرین کاجوابی حملہ ناکام ہورہا ہے: پوتین

یوکرین میں روسی افواج کے خلاف کلسٹر بم استعمال کیے جاتے ہیں تو ماسکو جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

روسی صدر ولادی میر پوتین نے کہا ہے کہ ان کے ملک کے پاس کلسٹر بموں کا کافی ذخیرہ موجود ہے اوراگر یوکرین میں روسی افواج کے خلاف ایسے ہتھیار استعمال کیے جاتے ہیں تو ماسکو ان بموں کو استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

پوتین نے اتوار کو سرکاری ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر کلسٹر بموں کوہمارے خلاف استعمال کیا جاتا ہے تو ہم جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

یوکرین کو امریکا نے کلسٹر بم مہیا کرنے کا اعلان کیا ہے۔کیف نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان بموں کو صرف دشمن کے فوجیوں کو ہٹانے کے لیے استعمال کرے گا۔

روس کے وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے یوکرین کو کلسٹر بم مہیا کیے تو ماسکو اسی طرح کے ہتھیار استعمال کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔

کلسٹر بم دھماکا خیز ہتھیار ہیں۔ یہ عام طور پر وسیع علاقے میں بڑی تعداد میں چھوٹے چھوٹے بم چھوڑتے ہیں۔ برطانیہ اور جاپان سمیت 100 سے زیادہ ممالک نے ان پر پابندی عاید کر رکھی ہے۔شوئیگو کے حوالے سے کہا گیا کہ روس کے پاس کلسٹر گولہ بارود موجود ہے لیکن اب تک وہ اپنی فوجی مہم میں ان کے استعمال سے گریز کرتا رہا ہے۔

تاہم اس سے قبل امریکا نے روس پر یوکرین میں کلسٹر گولہ بارود استعمال کرنے کا الزام عاید کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کی ناکامی کی شرح 40 فی صد تک ہے، جس کی وجہ سے زمین بغیر پھٹنے والے بموں سے بھر چکی ہے۔

یوکرین کا جوابی حملہ

صدر پوتین نے یہ بھی کہا کہ یوکرین کا ماسکو کی افواج کو پیچھے دھکیلنے کے لیے گذشتہ ماہ شروع کیا گیا جوابی حملہ ناکام ہو رہا ہے۔

یوکرین نے مغربی ہتھیاروں کا ذخیرہ کرنے اور اپنی جارحانہ افواج تیارکرنے کے بعد اپنی انتہائی متوقع لڑائی کا آغاز کیا۔

روسی صدر نے کہا کہ ’’تمام دشمن ہمارے دفاع کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں مگر حملہ شروع ہونے کے بعد سے وہ کامیاب نہیں ہوئے ہیں‘‘۔

یوکرین نے جمعہ کو مشکل لڑائی کو تسلیم کیا ہے اور کہا کہ اس کے فوجی گذشتہ ایک ہفتے کے دوران میں جنوبی محاذ پرقریباً دو کلومیٹر آگے بڑھ چکے ہیں۔ یوکرین کے صدارتی دفتر کے سربراہ آندرے یرمک نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’’آج یہ اتنی تیزی سے آگے نہیں بڑھ رہا ہے‘‘۔

نیشنل گارڈ کے ایک سینیر نمائندے میکولا ارشالووچ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ فوج جاری کارروائی کے دوران میں مقبوضہ جنوبی شہر میلیتوپول کی طرف بڑھ رہی ہےاور بردیانسک کی جانب جارحانہ کارروائیاں کر رہی ہے۔

یوکرینی صدر ولودی میر زیلنسکی نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ وعدے کے مطابق ہتھیاروں کی سست ترسیل کیف کے جوابی حملے میں تاخیرکا سبب بن رہی ہے اورانھوں نے امریکا اور دیگر اتحادیوں پر زور دیا تھا کہ وہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار اور توپ خانہ مہیّا کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں