پاکستان کی یو این رپورٹ میں بھارت اور اسرائیل کا جنسی تشدد نظر انداز کرنے کی مذمت

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر اور اسرائیل کے زیر قبضہ فلسطینی علاقوں میں تشدد کے جرائم کو شامل نہیں کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

پاکستان نے اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بھارت اور اسرائیل کا جنسی تشدد نظرانداز کرنے کی مذمت کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں خواتین کے خلاف جنسی تشدد کا معاملہ سلامتی کونسل میں اٹھا دیا۔

پاکستان کے مستقل نمائندے منیر اکرم نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کے دوران جنسی تشدد سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بھارت اور اسرائیل کے مظالم نظر انداز کرنے کی مذمت کی اور سیکرٹری جنرل پر زور دیا کہ وہ رپورٹ میں غلطیوں کو درست کریں اور مستقبل کی رپورٹس میں تنازعات سے متعلق جنسی تشدد کا ارتکاب کرنے والے ممالک میں بھارت اور اسرائیل کو شامل کریں۔

پاکستانی سفیر منیراکرم نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں خواتین اور لڑکیوں کو ہراساں کرنے اور ان کی تذلیل کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ جنسی تشدد سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر اور اسرائیل کے زیر قبضہ فلسطینی علاقوں میں تشدد کے جرائم کو شامل نہیں کیا گیا، انہوں نے طویل تنازعات سے متعلق سلامتی کونسل کی تمام قراردادوں پر شفاف انداز میں عمل درآمد پر زور دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں