بوسیدہ ٹینکر سے پر خطر تیل پمپنگ آپریشن کے لیے اقوام متحدہ کا جہاز یمن پہنچ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اقوام متحدہ کا ایک بحری جہاز اتوار کو جنگ زدہ یمن میں ایک پرخطر آپریشن کے لیے پہنچا ہے تاکہ سمندر میں بوسیدہ ٹینکر سے دس لاکھ بیرل سے زیادہ تیل پمپ کیا جا سکے اور ممکنہ ، تباہ کن رساؤ کو روکا جا سکے۔

اقوام متحدہ کا یہ اقدام یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے درمیان برسوں کی کشیدہ سفارت کاری کے بعد عمل میں آیا۔

اقوام متحدہ کا جہاز ناٹیکا جسے اس آپریشن کے لیے خریدا گیا ہے، ہفتے کے روز جبوتی سے روانہ ہوا اور اتوار کو دوپہر سے پہلے یمنی پانیوں میں پہنچا۔ یہ بحیرہ احمر میں زنگ آلود سپر ٹینکر ایف ایس او صافر سے خطیر مقدار میں تیل منتقل کرے گا۔

47 سال قدیم صافر کو 1980 کی دہائی میں یمن کے ساحل سے دور ، تیرتے ہوئے اسٹوریج اور آف لوڈنگ یونٹ میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔

یمن کی جنگ کی وجہ سے 2015 میں صافر پر حفاظتی اقدامات روک دیے گئے تھے، اور یو این ڈی پی نے بارہا خبردار کیا ہے کہ یہ "کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔"

1.14 ملین بیرل ماریب لائٹ کروڈ کو ناٹیکا میں منتقل کرنے کا نازک آپریشن، آئندہ ہفتے کے آخر میں شروع کیا جائے گا۔

آپریشن کے لیے خطرات

سخت حفاظتی جانچ پڑتال اور اقدامات کے باوجود تیل پھیلنے یا دھماکے کے بارے میں خدشات برقرار ہیں۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے پروجیکٹ مینیجر محمد مداوی جو اس آپریشن کا حصہ ہیں ، نے کہا کہ " خطرہ بہت زیادہ ہے" ،"لیکن ہم پر امید ہیں"

ٹینکر سے تیل نکلنے اور پھیلاؤ کی صورت میں ماحولیاتی تباہی ہو سکتی ہے، یمنی ماہی گیری برادریوں کو خطرہ ہے، اور لائف لائن بندرگاہیں اور ڈی سیلینیشن پلانٹس بند ہو سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ پھیلنے کی صورت میں یہ تیل ، جس کی صفائی پر 20 بلین ڈالر سے زیادہ لاگت آسکتی ہے ، ممکنہ طور پر سعودی عرب، اریٹیریا، جبوتی اور صومالیہ تک پہنچ جائے گا۔

شدید درجہ حرارت، بوسیدہ ہوتے پائپ اور ارد گرد کے پانیوں میں چھپی ہوئی سمندری بارودی سرنگیں سبھی اس آپریشن کے لیے خطرہ ہیں، جس کی تیاری ماہرین مئی کے آخر سے کر رہے ہیں۔

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر ڈیوڈ گریسلی نے پیر کو سلامتی کونسل کو بتایا کہ ٹیم نے جہاز کا معائنہ کیا، ٹرانسفر پمپس اور ہوزز کا بندوبست کیا اور کارگو ٹینکوں میں غیر فعال گیس پمپ کی تاکہ دھماکے کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔

پراجیکٹ کے ایک سینئر مشیر نک کوئن نے کہا کہ موسم گرما کے عروج پر کام کرنا، جب آن ڈیک درجہ حرارت 50 ڈگری سیلسیس (122 ڈگری فارن ہائیٹ) سے بڑھ جاتا ہے، ایک اضافی خطرہ ہے۔

اس کے علاوہ صافر حدیدہ کی بندرگاہ سے تقریباً 50 کلومیٹر (30 میل) کے فاصلے پر موجود ہے، یہ علاقہ اس قسم کی جنگلی حیات سے مالا مال ہے جو اخراج کی صورت میں شدید متاثر ہوگی۔

اقوام متحدہ نے توقع ظاہر کی ہے کہ صافر سے ناٹیکا تک تیل کی منتقلی میں تقریباً تین ہفتے لگیں گے۔

تاہم، کہانی یہیں ختم نہیں ہوگی، کیونکہ تیل کا مالک کون ہے اس مسئلے کو ابھی بھی متحارب یمنی فریقوں کو حل کرنے کی ضرورت ہوگی اور ملکیت کی بات چیت جاری رہنے کے دوران ناٹیکا علاقے میں ہی رہے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں