جاپان کے ساتھ مختلف شعبوں میں 26 معاہدوں پر دستخط کئے ہیں: سعودی وزیر سرمایہ کاری

جاپان کے ساتھ شراکت داری کے نئے دور کا آغاز کر رہے ہیں: خالد الفالح کا ’’ العربیہ‘‘ کو خصوصی انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سعودی وزیر سرمایہ کاری انجینئر خالد الفالح نے کہا ہے کہ ہم جاپان کے ساتھ اپنی شراکت داری میں ایک نئے دور کا آغاز کر رہے ہیں۔ ہم جاپان کے ساتھ کئی شعبوں میں شراکت داری کو مزید مضبوط بنائیں گے۔ ہم نے جاپان کے ساتھ مختلف شعبوں میں 26 معاہدوں پر دستخط کئے ہیں۔

جاپانی وزیر اعظم فومیو کِشیدا نے اتوار کو دو روزہ دورے پر سعودی عرب پہنچے۔ اس موقع پر ’’العربیہ ‘‘ کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ہم جاپان کے ساتھ صاف توانائی کے کئی منصوبوں پر کام کریں گے۔ سعودی وزیر سرمایہ کاری نے کئی معاملات پر جاپان کے ساتھ عظیم معاہدے کی توثیق کی۔

خالد الفالح نے کہا کہ جاپانی وزیر اعظم نے سعودی عرب اور جاپان کے تاجروں اور کاروباری خواتین کے نمائندوں سے ملاقات کی ہے۔ فومیو کشیدا اپنے ساتھ ایک بڑا وفد لے کر آئے ہیں۔ وفد میں 44 معروف جاپانی بڑی کمپنیوں اور مختلف شعبوں میں ابھرتی ہوئی اور اختراعی کمپنیوں کے نمائندے شامل ہیں۔

سعودی وزیر سرمایہ کاری نے مزید کہا کہ جاپانی وزیر اعظم نے کاروباری رہنماؤں کے ساتھ ’’ویژن 2030‘‘ کے لیے مملکت اور جاپان کی شراکت داری میں ایک نئے دور کے آغاز کے بارے میں اپنے ویژن کے بارے میں بات کی۔

اس ویژن میں توانائی اور موسمیاتی تبدیلی پر مرکوز نئے عناصر کا اضافہ کیا گیا۔ جاپانی وزیر اعظم نے اعلی درجے کی مصنوعات کی تیاری، مواد، بیٹریاں اور سیمی کنڈکٹرز اور ٹیکنالوجیز پر انحصار کرنے والی نئی اختراعات میں سرمایہ کاری پر زور دیا۔

خالد الفالح کے مطابق فومیو کشیدا نے سعودی عرب کے لیے مشرق وسطیٰ میں ایک مرکز بننے اور دنیا کو صاف توانائی کی فراہمی کے لیے ایک اڈا بننے کی اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا فومیو کشیدا کی یہ خواہش سعودی ولی عہد کی جانب سے توانائی کے شعبے میں شروع کیے گئے اقدامات کے موافق ہے۔ اسی طرح موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے ساتھ ہائیڈروجن نیوم پروجیکٹ اور آرامکو پروجیکٹس جیسے اقدامات بھی جاری ہیں۔

خالد الفالح نے کہا کہ مستقبل کے تصورات اور سمتوں میں یہ ایک عظیم معاہدہ ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط تعلقات ہیں جو تعاون کی بلندیوں کی طرف جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت، مالیاتی ٹیکنالوجی، خزانہ، برآمدات، لاجسٹکس، سیاحت، تفریح اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں 26 معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں ۔

دریں اثنا سعودی وزیر سرمایہ کاری نے جاپانی وزیراعظم کے ساتھ مشترکہ ملاقات میں کہا کہ جاپان مملکت کا تیسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ ہم جاپان کے ساتھ مشترکہ سرمایہ کاری جاری رکھیں گے اور صاف توانائی کے شعبے میں اپنی شراکت داری کو مضبوط بنائیں گے۔

اپنی تقریر میں انہوں نے کہا کہ جاپانی وفد میں جاپان کی 44 معروف کمپنیاں شامل ہیں جو جاپان کو حاصل بہترین صلاحیت اور تنوع کی عکاسی کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ اس وفد نے کل اور آج دیکھ کر اس سے فائدہ اٹھایا ہوگا اور سعودی عرب کی کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ہمارے تحقیقی مراکز میں جدت کو دیکھا ہوگا۔

سعودی وزیر نے کہا کہ سعودی اور جاپانی کمپنیوں کے درمیان گول میز اجلاس میں ہونے والی بات چیت اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ایک قریبی تعلقات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ دورہ دونوں ملکوں کو گزشتہ ستر سالوں سے ایک دوسرے کے قریب لایا ہے۔ یہ رشتہ باہمی اعتماد، مشترکہ اقدار اور باہمی مفادات پر مبنی ہے۔ جاپان سعودی عرب کا تیسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب توانائی کی فراہمی کے شعبے میں ایک قابل اعتماد پارٹنر ہے جو دنیا کی سب سے بڑی اور جدید ترین معیشتوں میں سے ایک کے طور پر جاپان کی پوزیشن کو مضبوط بنانے میں معاون ہے۔

ہائیڈرو کاربن کے شعبہ میں قریبی تعلقات نے ہماری شراکت داری کی ایک مضبوط بنیاد بنائی ہے۔ یہ بنیاد اب بھی مضبوط ہے اور ہم آنے والے سالوں میں اسے مزید مضبوط کرتے رہیں گے۔ آج ہم ایک نئے دور کے عروج پر ہیں جس میں ہم اپنی شراکت داری کو نئی سطحوں اور افقوں تک بڑھانے کے لیے اسے ٹھوس بنیاد پر استوار کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں