صاف توانائی کے فروغ کے لیے سعودی-جاپانی "منار" اقدام کا آغاز

اس اقدام کے تحت کئی ایسے منصوبے تیار کیے گیے ہیں جو صاف توانائی کی طرف منتقلی کے رجحان کو آگے بڑھائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان ، اور جاپان کے وزیر اعظم فوميو كيشيدا کی آج پیر کو جدہ میں ملاقات ہوئی جس کے دوران انہوں نے ایک نئی مشترکہ کوشش "منار" اقدام کا اعلان کیا ہے،، جس کا مقصد صاف توانائی کو فروغ دینا ہے۔

منار اقدام کے تحت صاف توانائی کے شعبے میں دونوں ممالک کی خواہشات کو ہم آہنگ کرنے اور پائیدار جدید مواد کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ سپلائی چین کی لچک اور حفاظت کو یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

ایک سرکاری بیان میں اس اقدام کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے، اور اسے دنیا کے تمام ممالک اور خطوں کے لیے کاربن غیرجانبداری کے لیے حکمت عملیوں اور منصوبوں کے حصول میں رہنما کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

یہ اقدام صاف توانائی اور پائیدار مواد کے منصوبوں میں دونوں ممالک کی قیادت اور خود کو صاف توانائی، معدنی وسائل اور توانائی کے اجزاء کی سپلائی چین کے مرکز کے طور پر قائم کرنے کے لیے سعودی عرب کی جاری کوششوں کا اظہار ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ، سعودی عرب کاربن کے اخراج کو کم کرنے اور نیٹ زیرو تک پہنچنے کے عزائم رکھتا ہے اور قابل تجدید توانائی اور صاف ہائیڈروجن کی پیداوار میں دنیا میں سب سے کم لاگت ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کو توانائی کی مصنوعات برآمد کرنے کے طریقوں پر اپنے اسٹریٹجک مقام سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔

جاپان بھی نیٹ زیرو حاصل کرنے کے لیے کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے عزائم رکھتا ہے، اور یہ صاف توانائی ٹیکنالوجی کے حل میں عالمی رہنما ہے۔

"منار" اقدام کا مقصد سپلائی کی پائیداری اور حفاظت کے حصول کے لیے سپلائی چین کی لچک کو یقینی بنانے کے علاوہ صاف توانائی کے منصوبوں اور پائیدار جدید مواد میں مملکت اور جاپان کی قیادت کو اجاگر کرنا ہے۔ اس اقدام سے سعودی عرب کی صاف توانائی، معدنی وسائل اور توانائی کے اجزاء کی سپلائی چین کا مرکز بننے کی جاری کوششوں کو تقویت ملے گی۔

اس اقدام میں متعدد پائیدار مواد کی تیاری شامل ہے، جس میں سعودی عرب اور جاپان کی معروف کمپنیوں کی شرکت اور تعاون کو بڑھانے کی توقع ہے۔ اپنی مشترکہ کوششوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، دونوں ممالک کا مقصد توانائی کی سپلائی چین کے اندر منصوبوں کو تیار کرنا ہے۔

اس اقدام میں متعدد پروجیکٹس شامل ہوں گے جو صاف توانائی کی طرف منتقلی کو فروغ دیتے ہیں، جن میں ہائیڈروجن اور امونیا، مصنوعی ایندھن، سرکلر کاربن اکانومی/کاربن ری سائیکلنگ، ڈائریکٹ ایئر کاربن ، سپلائی چینز، پائیدار مواد کی ترقی، علم اور تحقیق کا تبادلہ جیسے شعبوں پر توجہ دی جائے گی۔

منار اقدام کے نفاذ کو آسان بنانے کے لیے، سعودی عرب اور جاپان نے صاف توانائی کی فراہمی کے سلسلے اور معدنی وسائل پر تعاون کرنے کا عہد کیا ہے۔ وہ اپنی صلاحیتوں، خواہشات اور دونوں ممالک کی کمپنیوں اور اداروں کی مہارت کو یکجا کریں گے تاکہ صاف توانائی کی مارکیٹ کو وسعت دی جا سکے، لاگت کو کم کیا جا سکے اور سپلائی چین کی لچک کو بڑھایا جا سکے۔

دونوں ممالک اس اقدام کے ایکشن پلان کو تیار کرنے، اضافی شرکاء کی نشاندہی کرنے اور عالمی اور علاقائی شراکت داروں کو اس کوشش میں شامل کرنے کے لیے مل کر کام کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں