افغان پناہ گزینوں کے پاکستان میں شدت پسندی میں ملوث ہونے کا اشارہ نہیں ملا: وائٹ ہاؤس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کی فوج کی جانب سے اس تشویش کے اظہار کے بعد کہ عسکریت پسندوں کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں ملی ہوئی ہیں وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ پاکستان میں یا اس کی سرحد کے ساتھ افغان مہاجرین کے شدت پسندی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کا کوئی اشارہ نہیں ملا۔

وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے پیر کو ایک پریس بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا کہ ہم نے ایسا کوئی اشارہ نہیں دیکھا کہ پاکستان میں یا اس سرحد کے ساتھ موجود افغان مہاجرین دہشت گردی کی کارروائیوں کے مجرم ہیں۔

پاکستانی فوج کے مطابق پاکستان کے بلوچستان میں ایک فوجی اڈے پر جنگجوؤں کے حملے کے بعد 9 فوجی ہلاک ہو گئے۔ پاکستانی فوج کے مطابق گزشتہ ہفتے علاقے میں فائرنگ کے تبادلے میں مزید تین افراد مارے گئے۔

جان کربی نے کہا کہ ہم پاکستان کے اس ناقابل یقین فراخدلی کے لیے شکر گزار ہیں جس کا مظاہرہ اس نے بڑی تعداد میں افعان مہاجرین کے ساتھ کیا اور بڑی تعداد میں افغان مہاجرین کو محفوظ جگہ فراہم کی۔ ہم پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔ ہمیں بجا طور پر دہشت گردی کے خطرات کا سامنا ہے۔

انہوں نے تحریک طالبان پاکستان کے عسکریت پسند گروپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا پاکستان کی فوج کو افغانستان میں ٹی ٹی پی کو دستیاب محفوظ پناہ گاہوں اور کارروائی کی آزادی پر شدید تحفظات ہیں۔

جان کربی کے مطابق اس طرح کے حملے ناقابل برداشت ہیں اور پاکستان کی سیکورٹی فورسز کی جانب سے اس کا موثر جواب دیا جائے گا۔

افغانستان ماضی کے ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے کہ وہ عسکریت پسند گروپوں کو اپنی سرزمین سے پاکستان پر حملے کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

ٹی ٹی پی نے 2022 کے آخر میں حکومت کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کو منسوخ کرنے کے بعد سے حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں