افغانستان وطالبان

اقوام متحدہ کی رپورٹیں غیر حقیقی اور جھوٹ کا پلندہ ہیں: طالبان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افغان طالبان کے ترجمان محمد نعیم نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کے اجراء کے بعد اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اقوام متحدہ کی رپورٹس غیر حقیقی اور جھوٹ پرمبنی ہیں۔

العربیہ اور الحدث کو انٹرویو دیتے ہوئے طالبان کے ترجمان نے وضاحت کی کہ افغانستان میں کچھ مسائل ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس ان کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ افغانستان میں خواتین کے خلاف انفرادی واقعات رونما ہوتے ہیں، لیکن وہ حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے۔

طالبان کے ایک ترجمان نے العربیہ کو بتایا کہ تحریک چیلنج کر رہی ہے کہ کوئی ثبوت فراہم کرے کہ اس کے ارکان لڑکیوں کو مارتے ہیں۔ طالبان حکومت افغانستان میں خواتین کے مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ لڑکیوں کی تعلیم کا معاملہ اندرونی معاملہ ہے جس میں بیرونی لوگوں کو مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ افغانستان سے باہر کسی کو بھی لڑکیوں کے معاملات میں مداخلت کا حق نہیں ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ حکومت افغانستان میں لڑکیوں سے متعلق کچھ فیصلوں کو تبدیل کرنے پر غور کر رہی ہے۔

اقوام متحدہ تازہ رپورٹ مئی اور جون کے مہینوں پر محیط ہےجس میں افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے کہا ہے کہ طالبان کی وزارت صحت عامہ نے اعلان کیا ہے کہ خصوصی طبی تعلیم حاصل کرنے کے لیے صرف مردوں کو امتحان دینے کی اجازت ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد فروری میں میڈیکل کی طالبات پر گریجویشن کے امتحانات دینے پر پابندی لگائی گئی تھی اور گذشتہ دسمبر میں یونیورسٹیوں میں خواتین کے داخلہ پر پابندی لگائی گئی۔

نقل و حرکت اور ملازمتوں پر پابندی

اقوام متحدہ نے کہا کہ اس نے ایسے کیسز ریکارڈ کیے ہیں جن میں طالبان نے خواتین کی نقل و حرکت اور ملازمتوں کی آزادی پر پہلے سے پابندیاں عائد کی تھیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مئی کے اوائل میں ایک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم کے لیے کام کرنے والی دو افغان خواتین ملازمین کو طالبان فورسز نے ہوائی اڈے سے اس لیے گرفتار کر لیا تھا کہ انھوں نے بغیر کسی مرد رشتہ دار کے سفر کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں