برطانوی فوج کی تنظیم نو کے لیے سابق ریزرو فوجیوں کو واپس بلا لیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ برطانیہ میں سابق فوجیوں کو مستقبل کے بحرانوں کی صورت میں فوج کے لیے متوقع جامع تنظیم نو کے منصوبے کے حصے کے طور پر ریزرو فورسز میں شمولیت کے لیے کہا جا سکتا ہے۔

"سنڈے ٹیلی گراف" اخبار نے دفاعی حکام کے بارے میں ایک طویل انتظار کے بعد پارلیمانی میمورنڈم کے اجراء کی ایک رپورٹ میں تصدیق کی ہے، جس سے برطانوی فوج کی تعداد نپولین دور کی جنگوں کے بعد سب سے کم ہو جائے گی۔

میمورنڈم کے مطابق وزراء سے [پارلیمانی میمورنڈم میں] تجاویز کا دفاع کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔ یوکرین میں جنگ اس بات کا بہترین ثبوت ہے کہ برطانوی افواج "فوری ردعمل کی قوت" بننے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سابق باقاعدہ فوجیوں کو بہ شمول وہ لوگ جو اب ریزروسٹ کے طور پر خدمات انجام نہیں دے رہے ہیں کو اسٹریٹجک "کوئیک ری ایکشن" فورس کو "دوبارہ بحال" کرنے میں مدد کے لیے لایا جائے گا۔

قابل ذکر ہے کہ فوج میں اس وقت 75,000 سے زائد اہلکار شامل ہیں اور اس امکان کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ یادداشت کے ذریعے فوج کی تعداد میں کمی کا اعلان کیا جائے گا، جس سے ڈرون ٹیکنالوجی پر تحقیق میں دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔

ٹیلی گراف نے اطلاع دی ہے کہ حکومت فوج کے جوانوں کی تعداد 73,000 تک کم کرنے کے اپنے منصوبے کا اعلان کرے گی۔

ایک حکومتی ذریعے نے اخبار کو انکشاف کیا کہ "ہم نے یوکرین کی جنگ سے بہت سے سبق سیکھے ہیں۔اس کا پیمانہ اس نسل کے تصور سے بھی باہر ہے۔ مثال کے طور پر ہم نے دیکھا ہے کہ ہماری افواج کو فوری ردعمل کی قوت میں کیسے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔" "

درایں اثناء وزیر اعظم کے دفتر نے تصدیق کی کہ پارلیمانی میمورنڈم ان اقدامات کا ایک جامع جائزہ فراہم کرے گا جو برطانیہ "ہماری مسلح افواج کی تیاری اور تیزی سے تعیناتی کی صلاحیت" کو بڑھانے کے لیے اٹھائے گا۔

اس منصوبے میں ایک نئی عالمی رسپانس فورس بھیجنا شامل ہو گا، جس کے بارے میں دفاعی حکام کو امید ہے کہ مختصر نوٹس پر یا تو پیشگی جگہ پر یا وہاں زیادہ تیزی سے تعینات کر کے بحرانوں کا جواب دینے کی فوج کی موثر صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں