طالبان افغان خواتین پر پابندیاں بڑھا رہے ہیں: اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی صورت حال سے متعلق رپورٹ پیر کو جاری کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت نے حالیہ مہینوں میں افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں پر پابندیاں سخت کر دی ہیں۔ خاص طور پر ان کی تعلیم اور دیگر ملازمتوں کے سلسلے میں پابندیاں بڑھ رہی ہیں۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے مئی اور جون کے حالات پر مبنی اپنی رپورٹ میں کہا کہ طالبان کی وزارت صحت عامہ نے اعلان کیا ہے کہ خصوصی طبی تعلیم حاصل کرنے کے لیے صرف مردوں کو ٹیسٹ دینے کی اجازت ہوگی۔ ٹیسٹ دینے پر پابندی کے اس فیصلے سے قبل فروری میں میڈیکل کی طالبات پر گریجویشن کے امتحانات دینے پر پابندی عائد کی گئی تھی اور گزشتہ دسمبر میں خواتین کے یونیورسٹیوں میں داخلے پر پابندی لگائی گئی تھی۔

اقوام متحدہ نے بتایا کہ ایسے کیسز بھی ریکارڈ میں آئے ہیں جن میں طالبان نے خواتین کی نقل و حرکت اور ملازمتوں کی آزادی پر پہلے سے پابندیاں عائد کی تھیں۔

الحدث

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مئی کے اوائل میں ایک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم کے لیے کام کرنے والی دو افغان خواتین ملازمین کو طالبان فورسز نے ایئرپورٹ سے اس لیے گرفتار کر لیا تھا کہ انھوں نے بغیر کسی مرد رشتہ دار کے سفر کیا تھا۔

جون میں طالبان کی انٹیلی جنس سروس نے ایک دائی کو حراست میں لیا اور پانچ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔ اسے دھمکی دی گئی کہ اگر اس نے ایک این جی او کے ساتھ کام جاری رکھا تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس دائی نے دو دن بعد استعفیٰ دے دیا۔

تنظیم نے کہا کہ وزارت اقتصادیات نے دو دیگر غیر سرکاری تنظیموں کا لائسنس اس وجہ سے معطل کردیا کہ ان تنظیموں کے دفاتر میں خواتین ملازمین بھی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق خواتین کے خلاف جسمانی حملوں کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ایک واقعہ یھی پیش آیا کہ طالبان کی وزارت برائے امر بالمعروف و نھی عن المنکر کے ارکان نے ایک خاتون کو چھڑی سے مارا اور اسے ایک عوامی پارک سے نکلنے پر مجبور کیا۔ یاد رہے اقوام متحدہ نے گزشتہ مئی میں کہا تھا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران 274 مردوں، 58 خواتین اور دو لڑکوں کو سرعام کوڑے مارے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں