عدالتی اصلاحات کے خلاف اسرائیل میں پھر مظاہرے، 17 افراد گرفتار

مظاہرین نے تل ابیب میں اسرائیلی وزارت دفاع کا گھیراؤ کر لیا: نامہ نگار العربیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل میں آج منگل کو وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے عدالتی اصلاحات کے منصوبے کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا۔

حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد عدلیہ کو کمزور کرنا اور سپریم کورٹ کے اختیارات کو کم کرنا ہے۔

العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے بتایا کہ مظاہرین نے تل ابیب میں اسرائیلی وزارت دفاع کو گھیرے میں لے لیا، جبکہ اسرائیلی پولیس نے آج صبح سے 17 مظاہرین کو گرفتار کیا ہے۔

اسرائیل کے اندر موجود عرب ذرائع نے عرب ورلڈ نیوز ایجنسی کو بتایا کہ مظاہرے اسرائیل کے الگ الگ حصوں میں مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے شروع ہوئے۔

عینی شاہدین کے مطابق حیفا میں سینکڑوں مظاہرین نے مرکزی شاہراؤں کو پر نقل و حرکت روک دی جبکہ 200 سے زائد خواتین نے شہر کی ایک عدالت کے سامنے احتجاج کیا۔

مقامی میڈیا کے مطابق مظاہرین کا مقصد آج اسرائیل میں نقل و حرکت کو مفلوج کرنا اور بڑی سڑکوں کو بلاک کرنا ہے، جیسا کہ اپوزیشن کی طرف سے پہلے اعلان کیا گیا تھا۔

اخبار "یدیوت احرونوت" کے مطابق مظاہرین نے ساحلی سڑک کو دونوں سمتوں میں بند کر دیا، اور تل ابیب کی سڑکوں سے ہوتے ہوئے اسٹاک ایکسچینج کی عمارت تک پہنچ گئے۔

احتجاج کرنے والے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مجوزہ تبدیلیوں کا مقصد نیتن یاہو کو بدعنوانی کے مقدمات سے بچانا اور اسرائیل میں سپریم کورٹ اور جمہوریت کے کردار کو کمزور کرنا ہے۔

کیپلان فورس موومنٹ، جو اپوزیشن کی طرف سے مظاہروں کو منظم کرنے کے لیے قائم کی گئی تھی، نے کہا کہ منگل کو مظاہرے میں اسرائیل کے پانچ مرکزی ٹرین اسٹیشنوں پر کام روکنے کی کوشش بھی کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں