متنازع خلیجی جزائر پر بیان سے متعلق روسی وضاحتیں ناکافی ہیں: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read


ایران نے کہا ہے کہ روس اور خلیج تعاون کونسل کے حالیہ مشترکہ بیان کے متعلق ماسکو کی تہران کو وضاحتیں ناکافی ہیں۔ پیر کے روز یہ بیان ایران کے زیر کنٹرول تین جزیروں سے متعلق روس اور جی سی سی کے بیان کے رد عمل سامنے آیا ہے۔

گزشتہ ہفتے جی سی سی اور روس کے وزرائے خارجہ نے بات چیت کی اور بڑے اور چھوٹے تونب جزائر اور ابو موسی کے مسئلے کے "پرامن حل" پر زور دیا۔ جواب میں ایران کی وزارت خارجہ نے تہران میں روس کے سفیر کو طلب کر کے بیان کے مواد پر تحفظات کا اظہار کیا۔

پیر کو تہران میں اپنے عمانی ہم منصب کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا کہ ایران کو روس سے "وضاحتیں" موصول ہوئی ہیں لیکن ہم ان وضاحتوں کو ناکافی سمجھتے ہیں۔

ایران کے سرکاری میڈیا نے حسین امیر کے حوالے سے کہا کہ ہم ان وضاحتوں کو کافی نہیں سمجھتے ہیں اور ہم ایران کی علاقائی سالمیت کے بارے میں اس طرح کے طریقوں اور دعووں کی تکرار کو قبول نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اپنی آزادی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی کسی کو اجازت نہیں دے گا۔ خلیج میں آبنائے ہرمز کے داخلی راستے کے قریب واقع تین سٹریٹجک نوعیت کے جزیرے متحدہ عرب امارات اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے تنازعہ کا باعث بنے ہوئے ہیں۔

حسین امیر نے یوکرین کی جنگ کے بارے میں بھی بات کی اور کہا کہ تہران کا خیال ہے کہ وہاں کے تنازع کو فوجی ذرائع کے بجائے امن مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں