یمن اور حوثی

یمن: یوٹیوب نے حوثی ملیشیا کے 18 چینلز بند کر دیے

انٹرنیٹ پر حوثی ملیشیا سے وابستہ متعدد صفحات کو بند کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں: یمنی وزیر اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ ’’یوٹیوب‘‘ نے حوثی ملیشیا سے وابستہ 18 چینلز کو بند کر دیا ہے۔

حوثی خبر ایجنسی "صبا" نے بتایا کہ ملیشیا کے نام نہاد "جنگی میڈیا" نے یوٹیوب کمپنی کی جانب سے 18 چینلز کو بند کرنے کی شدید مٓذمت کی ہے۔ بند کئے جانے والے چینلز میں انصار اللہ بینڈ، فنکارانہ اور دستاویزی فلموں کے پروڈکشن یونٹس اور شہداء کے متعلق چینل شامل تھے۔

حوثی خبر ایجنسی کے مطابق بند چینلز کے سبسکرائبرز کی تعداد 5 لاکھ سے زیادہ ہے اور بند چینلز میں سات ہزار سے زیادہ ویڈیوز ہیں۔ جن کے ویوز کی تعداد 90 ملین سے زیادہ ہے۔

حوثی ملٹری میڈیا نے کہا کہ یوٹیوب، فیس بک اور ٹوئٹر جیسے پلیٹ فارمز پر حالیہ بندش ان پلیٹ فارمزکے دوہرے معیار اور ان کمپنیوں کی انتظامیہ کے دوہرے معیار کی پالیسی کی تصدیق کرتی ہے۔

یمن کے وزیر اطلاعات معمر العریانی نے انٹرنیٹ پر موجود بڑے عالمی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز (یوٹیوب، فیس بک، ٹویٹر) کے یمنی حکومت کے ردعمل اور حوثی ملیشیا سے وابستہ متعدد صفحات کی بندش کا خیرمقدم کیا۔

انہوں نے کہا کہ حوثی ملیشیا دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہے اور یمن اور خطے کی سلامتی و استحکام کو غیر مستحکم کرنے کے لیے سرگرم رہتی ہے۔ ان چینلز پر پرتشدد اور نفرت انگیز تقاریر پھیلائی جاتی تھیں۔ ایران سے درآمد کیے گئے زہریلے فرقہ وارانہ خیالات کو پھیلایا جاتا تھا۔ یہ چینلز آنے والی نسلوں کی غلط ذہن سازی کر رہے تھے۔

العریانی نے اپنے ٹوئٹر پیج پر ٹویٹس میں اس قدم کی تعریف کی اور کہا کہ ہم نے بارہا اس کے لیے بات کی ہے ۔ ہم نے متنبہ کیا ہے کہ یہ پلیٹ فارم داعش اور القاعدہ جیسے دہشت گرد گروپوں کے ذریعے چلائے جانے والے پلیٹ فارمز سے مختلف نہیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں