جدہ میں سعودی ترک بزنس فورم میں 10 معاہدوں پر دستخط متوقع

ایک ہزار 140 سعودی کمپنیاں ترکی میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read


ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔ اس دورہ سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے حجم میں ایک ایسے وقت میں اضافہ متوقع ہے جب دونوں ملکوں اپنے درمیان تجارت کا حجم بڑھانے کے خواہش مند ہیں۔

’’العربیہ‘‘ کے نامہ نگار سلطان السلمی نے بتایا کہ سعودی ترک بزنس کونسل کےاجلاس آج جدہ میں شروع ہوئے۔ ان اجلاسوں میں سعودی عرب میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھنے والی 200 سے زیادہ ترک کاروباری شخصیات موجود ہیں۔ سلطان السملی نے کہا کہ ملاقاتوں میں ترکیہ میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی رکھنے والی سعودی کمپنیوں اور تاجروں نے شرکت کی۔ سعودی عرب میں تقریباً 390 ترک کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ لگ بھگ ایک ہزار 140 سعودی کمپنیاں ترکیہ میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سعودی ترک بزنس کونسل کے اجلاسوں کے دوران توقع ہے کہ کان کنی، توانائی، صحت کی دیکھ بھال، غذائیت، زراعت، رئیل اسٹیٹ، تعمیرات اور سیاحت سمیت اقتصادی شعبوں میں 10 معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے۔

سعودی وزیر سرمایہ کاری خالد الفالح اور ترک صدر رجب طیب ایردوان ان ملاقاتوں میں شرکت کرنے والے ہیں۔ اس سال کے پہلے 4 ماہ کے دوران سعودی عرب میں ترکیہ کی برآمدات کی مالیت تقریباً 781 ملین ڈالر رہی۔

دونوں ملکوں کے درمیان آپس کی تجارت 2017 میں 4.5 بلین ڈالر سے بڑھ کر 2022 میں 6.1 بلین ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔ گزشتہ برس سعودی عرب کو ترکیہ کی برآمدات 1.05 بلین ڈالر تھیں جو 2021 کے اعداد و شمار سے زیادہ ہے۔ 2021 میں یہ برآمدات تقریباً 250 ملین ڈالر رہی تھیں۔

گزشتہ ہفتے استنبول میں سعودی ترک بزنس فورم کا انعقاد کیا گیا جس میں سعودی فریق اور ترک کمپنیوں کے درمیان رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ، تعمیرات، انجینئرنگ کنسلٹنسی اور سرمایہ کاری سمیت دیگر شعبوں میں 2.3 بلین ریال سے زیادہ تعاون کے 16 معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں