امریکا نے فون ہیکنگ کے اسپائی ویئر سے وابستہ چار اسرائیلی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکا نے منگل کے روز اسرائیل کے زیرانتظام چار کمپنیوں کو بلیک لسٹ کر دیا ہے۔ان کے اسپائی ویئر کو مبیّنہ طور پر حکومتوں نے مخالفین کے فون ہیک کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔

امریکی محکمہ تجارت نے اعلان کیا ہے کہ یونان اور آئرلینڈ میں قائم انٹیلیکسا اور ہنگری اور شمالی مقدونیہ میں قائم سائٹروکس کے یونٹوں کو ان اداروں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، جن کے ساتھ امریکی کاروبار نہیں کرسکتے اور امریکی قانون ان کے ساتھ کاروبار کرنے سے سختی سے روکتا ہے۔

محکمہ تجارت کا کہنا ہے کہ انٹیلیکسا اور سائٹروکس نے آئی ٹی کے نظاموں میں دراندازی اور انھیں توڑنے کے لیے غلط کام کیا، جس سے ’’دنیا بھر میں افراد اور تنظیموں کی نج کی زندگی اور سکیورٹی کو خطرات لاحق ہوگئے‘‘۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن نے ایک بیان میں کہا کہ چاروں کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرنا امریکی حکومت کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے جس کا مقصد تجارتی اسپائی ویئر سے پیدا ہونے والے خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس طرح کے اسپائی ویئر’’امریکا کے لیے واضح اور بڑھتے ہوئے کاؤنٹر انٹیلی جنس اور سکیورٹی کے خطرات پیدا کرتے ہیں، جس میں امریکی حکومت کے اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کی حفاظت اور سلامتی بھی شامل ہے‘‘۔

بلینکن نے کہا کہ ’’اس اسپائی ویئر کو جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے ، جس میں سیاسی مخالفین کو ڈرانے اور اختلاف رائے کو دبانے کے لیے استعمال بھی شامل ہے‘‘۔

یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ان دونوں کمپنیوں پر نگرانی کے ایسے آلات اور اسپائی ویئرمہیا کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے جن کے ذریعے حکومتیں اپنے سیاسی مخالفین کے فون کرتی ہیں اور اس اسپائی ویئر کا حکومت کے مخالف سیاست دانوں کے موبائل فونوں میں موجود ہونے کا پتا چلا تھا۔

سائبر سکیورٹی فرم ٹالوس کے مطابق پریڈیٹر نامی اسپائی ویئر کے پیچھے انٹیلیکسا اور سائٹروکس کا ہاتھ کارفرما ہے۔ہیکنگ اور اسپائی ویئر کا مطالعہ کرنے والی یونیورسٹی آف ٹورنٹو کی دی سٹیزن لیب کے مطابق پریڈیٹر کو جلاوطن مصری سیاست دان ایمن نور کے ساتھ ساتھ ایک مصری ٹیلی ویژن صحافی کو ہیک کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا جس کی شناخت مخفی رکھی گئی تھی۔

جنوری میں یونان کی ڈیٹا پروٹیکشن اتھارٹی نے انٹیلیکسا پر یونان کے سیاسی حزب اختلاف کے رہ نماؤں، صحافیوں، فوجی سربراہوں اور دیگر کی جاسوسی کے لیے پریڈیٹر کے استعمال کی تحقیقات میں تعاون سے انکار پر 50,000 یورو جرمانہ عاید کیا تھا۔

سٹیزن لیب نے 2021 میں ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ سائٹروکس اور اس کا پریڈیٹر ٹول "انٹیلیکس الائنس" کا حصہ ہیں۔انٹیلیکسا کمپنی اسرائیلی ڈیفنس فورس کے سابق انٹیلی جنس افسر تال دلیان نے قائم کی تھی۔ وہ اس سے پہلے بدنام زمانہ اسپائی ویئر پیگاسس کے خالق این ایس او گروپ سے وابستہ تھے۔

فوربز کی رپورٹ کے مطابق دلیان نے 2019 میں انٹیلیکس کو ہیکنگ اور الیکٹرانک نگرانی کی خدمات اور مصنوعات کی "ون اسٹاپ شاپ" بنانے کے لیے سائٹروکس کا کنٹرول سنبھالا تھا۔مارکیٹنگ مواد کے مطابق، انٹیلیکسا صارفین کو ایپل کے آئی او ایس اور اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم دونوں کو ہیک کرنے کی صلاحیت کی پیش کش کرتی ہے۔

گذشتہ ماہ اسرائیل کے اخبار ہارتز نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ سرکاری دفاعی ٹھیکے دار اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز سائٹروکس میں ابتدائی سرمایہ کار تھی لیکن اس نے 2019 کے اوائل میں اپنے حصص انٹیلیکسا کو فروخت کر دیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں