متحدہ عرب امارات کی کمپنیوں اورترکیہ کے درمیان 50 ارب ڈالرسے زیادہ مالیت کے معاہدے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

متحدہ عرب امارات اور ترکیہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے مجموعی طور پر 50.7 ارب ڈالر مالیت کے متعدد تزویراتی معاہدے اور مفاہمت کی یادداشتیں طے پائی ہیں۔

ان معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر متحدہ عرب امارات کے صدرشیخ محمد بن زاید آل نہیان اور ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی موجودگی میں بدھ کو دست خط کیے گئے ہیں۔

یواے ای کی توازن کونسل اور ترک ڈیفنس انڈسٹریز ایجنسی کے درمیان دفاعی صنعت کے شعبے میں تزویراتی تعاون سے متعلق مفاہمت کی یادداشت پر دست خط کیے گئے ہیں۔

یواے ای کی خلائی ایجنسی، ترکیہ کی وزارت برائے سائنس، صنعت، ٹیکنالوجی اور ترک خلائی ایجنسی کے درمیان تجارتی مقاصد کے لیے مشترکہ لانچ وہیکل کی صلاحیتوں کی ترقی سے متعلق مفاہمت کی یادداشت پر بھی دست خط کیے گئے ہیں۔

برآمدات اور دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے اے ڈی کیو اور ترک ایگزم بینک کے درمیان ایکسپورٹ کریڈٹ فنانسنگ کے شعبے میں ایک سمجھوتا طے پایا ہے۔

ابوظبی ڈویلپمنٹ ہولڈنگ کمپنی (اے ڈی کیو) اور ترکیہ کی وزارت خزانہ کے درمیان زلزلے سے متاثرہ ترکیہ کے علاقوں کی تعمیرِنو کے مقاصد کے لیے صکوک میں سرمایہ کاری کا معاہدہ طے پایا ہے۔

ترکیہ متحدہ عرب امارات کے سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے، 2013 سے 2022 تک دونوں ممالک کے درمیان غیر تیل انٹرا ٹریڈ کی مالیت 103 ارب ڈالر سے زیادہ ہے، جو 56 ارب ڈالر کی درآمدات، قریباً 35 ارب ڈالر کی برآمدات اور 12 ارب ڈالر سے زیادہ کی دوبارہ برآمدات میں تقسیم ہے۔

اس سال کے اوائل میں دونوں ممالک کی حکومتوں نے ایک جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (سی ای پی اے) پر دست خط کیے تھے، جس کا مقصد اگلے پانچ سال میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو 40 ارب ڈالر تک بڑھانا ہے۔

اس سے پہلے ترک صدر رجب طیب ایردوآن بدھ کے روز متحدہ عرب امارات پہنچے تو ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔یہ ان کے تین روزہ خلیجی دورے کا آخری اسٹاپ ہے۔ان کے دورے کا مقصد خطے کے ساتھ اقتصادی تعلقات اور دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ایردوآن نے ابوظبی سے قبل سعودی عرب اور قطر کا دورہ کیا تھا۔

ابوظبی میں نائب صدر، نائب وزیر اعظم اور صدارتی عدالت کے وزیر شیخ منصور بن زاید آل نہیان نے ترک صدر کا استقبال کیا۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال ابوظبی نے انقرہ کے ساتھ مقامی کرنسیوں میں 5 ارب ڈالر کے تبادلے کے معاہدے پر اتفاق کیا تھا تاکہ مشکلات کا شکار ترک کرنسی لیرا کی مدد کی جا سکے۔اس کے بعد متحدہ عرب امارات کی کمپنیوں نے ترکیہ میں سرمایہ کاری کے متعدد منصوبوں کا اعلان کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں