سعودی عرب میں اندرون اور بیرون ملک سفر کی مانگ تاریخ کی بلند ترین سطح پر!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سعودی عرب میں ٹریول انڈسٹری کے ایک اعلیٰ عہدہ دار کے مطابق رواں موسم گرما میں مملکت میں سیروسیاحت کے لیے سفر کی طلب بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور بین الاقوامی اور ملکی سفر کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

معروف سعودی ٹریول کمپنی الماسفر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مزمل حسین نے العربیہ سے گفتگو میں بتایا:’’ہم نے اس موسم گرما (22 جون سے 20 اگست، 2023 کے دورانیے) میں اپنے اومنی چینل صارفین کے پلیٹ فارمز پر سفر کے لیے غیر معمولی سطح کی بکنگ دیکھی ہے‘‘۔

سعودی مسافروں کے لیے سرفہرست بین الاقوامی مقامات میں مصر، متحدہ عرب امارات اور برطانیہ شامل ہیں۔گذشتہ موسم گرما میں ملک میں سفر کی بحالی کے بعد سے ترکیہ بھی سعودی مسافروں کے لیے اولین انتخاب میں سے ایک بن گیا ہے۔ تھائی لینڈ بھی سرفہرست بین الاقوامی مقامات میں شامل ہے کیونکہ اس نے جون 2022 میں سعودی شہریوں کو انٹری ویزا کی شرائط سے مستثنا قرار دے دیا تھا۔

اندرون ملک بھی سفری سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ سعودی تیزی سے اپنی دہلیز پر بہت سے پرکشش مقامات کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ مملکت میں سب سے زیادہ مقبول مقامات میں الریاض، جدہ اور الدمام شامل ہیں جہاں سعودی شہری کھانے، تفریح اور خریداری کے اختیارات کے ساتھ میٹروپولیٹن شہروں کی چکاچوند کی تلاش میں ہیں۔

آبھا، تبوک اور طائف بھی سب سے زیادہ مقبول ملکی مقامات میں شامل ہیں۔ان میں سے ہر ایک کے اپنے منفرد قدرتی، ثقافتی اور تاریخی مقامات ہیں۔سعودی شہری بھی اس موسم گرما کے دوران میں اپنا زیادہ وقت سفر میں گزاررہے ہیں۔ وہ طویل سفر کر رہے ہیں اور اپنے سفر کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی سفر کے لیے سعودی شہری اوسطاً اپنی چھٹیوں سے ایک ماہ قبل بکنگ کراتے ہیں جبکہ یہ سفراوسطاً 10 دن تک جاری رہتا ہے۔ اندرون ملک سفر بھی اسی طرز پر چلتا ہے، جس میں سفر اوسطاً 15 دن پہلے بک کیا جاتا ہے اور اوسطاً چھے دن تک جاری رہتا ہے۔

پُرتعیش، معنی خیز تجربات

دریں اثنا، بین الاقوامی اور اندرون ملک سفر دونوں کے لیے، فائیو اسٹار ہوٹلوں کی بکنگ کا نصف سے زیادہ حصہ ہے، جو ایک عالمی رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔اس میں سفر میں بہتری کے بعد مسافر زیادہ پرتعیش اور بامعنی تجربات کا انتخاب کر رہے ہیں. اندرون ملک فائیو اسٹار رہائش کی مقبولیت سعودی عرب جیسے مقامات پر لگژری ہوٹلوں اور ریزارٹ برانڈز کو مملکت میں متعارف کرانے سے بھی ممکن ہوئی ہے۔

مزمل حسین کا کہنا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی شہری سفر کو ترجیح دے رہے ہیں، اپنے دوروں کی منصوبہ بندی پر زیادہ وقت خرچ کر رہے ہیں اور یادگار تجربات تخلیق کرنے میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ یہ تبدیلی خاص طور پر اندرون ملک سفر کے لیے واضح ہے جہاں بین الاقوامی سفر کی مکمل بحالی کے باوجود مانگ بہت مضبوط ہے۔ اندرون ملک سفر کا طرزعمل خاندان، دوستوں سے ملنے یا خاص مواقع پر جانے جیسے مقاصد سے اپنے ملک کی تلاش کے لیے طویل تفریحی دوروں میں تبدیل ہوگیا ہے۔

انھوں نے کہا:’’یہ رجحان صرف بڑھنے والا ہے۔سعودی وژن 2030 کے سیاحتی ایجنڈے کی حمایت کے لیے سفر اور سیاحت کے ماحولیاتی نظام کی مربوط کوششوں کی وجہ سے مملکت میں اور وہاں سفر میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کا مقصد دہائی کے آخر تک سیاحوں کی سالانہ تعداد دس کروڑ تک بڑھانا ہے‘‘۔

مملکت کے پہلے ہی قدرتی، تاریخی، مذہبی اور ثقافتی کشش سے مالامال ہے۔ اس کے ساتھ اپنے پرجوش سیاحتی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ضروری اجزاء موجود ہیں۔ سیاحتی صنعت اب ایک پھلتی پھولتی سیاحتی معیشت کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچا تیار کرنے کے لیے کام کر رہی ہے ، ٹور گائیڈز کی تربیت اور ہوٹلوں کی تعمیر سے لے کر سفری پروگراموں کو ترتیب دینے اور پروازوں میں اضافہ کرنے تک اقدامات کیے جارہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کی معروف ٹریول کمپنی کی حیثیت سے المسافر سیاحت کے قومی چیمپیئن کی حیثیت سے اپنی پوزیشن کو مضبوط بنائے گی، ہر سفری ضرورت کو پورا کرے گی اور بیرون ملک، تفریحی اور مذہبی سفر کے مواقع پیدا کرے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں