افغانستان وطالبان

قرآن بے حرمتی پر طالبان کا حکم، سویڈش کمیٹی برائے افغانستان کی کچھ سرگرمیاں معطل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

انسانی حقوق کی بڑی تنظیم سویڈش کمیٹی برائے افغانستان نے افغانستان میں اپنی کچھ سرگرمیاں معطل کردی ہیں۔ سویڈش دارالحکومت میں قرآن کریم کی بے حرمتی کے بعد طالبان نے سویڈن کے اداروں کی سرگرمیاں معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

طالبان انتظامیہ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ افغانستان میں سویڈن کی جانب سے 28 جون کو سٹاک ہوم میں قرآن کو نذر آتش کرنے کے ردعمل میں تمام سرگرمیاں دینی چاہیں۔ تاہم طالبان نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ اس حکم کااطلاق کن اداروں پر ہوگا۔

امدادی گروپ نے طالبان انتظامیہ سے بات چیت کرنے کے بعد ایک بیان میں کہا کہ سویڈش کمیٹی برائے افغانستان کی کچھ سرگرمیاں روک دی گئی ہیں۔

ہزاروں افغان عملہ اس تنظیم کے لیے پورے ملک میں صحت، تعلیم اور دیہی ترقی میں کام کرتا ہے۔ گزشتہ سال اس کے ہیلتھ کلینک میں 2.5 ملین مریضوں کا علاج کیا گیا تھا۔

سویڈش کمیٹی نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ اس کے کتنے آپریشنز روک دیے گئے ہیں تاہم اس نے کہا کہ وہ جلد از جلد آپریشن دوبارہ شروع کرنے کی منظوری حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

طالبان کے زیر انتظام وزارت اقتصادیات جو غیر سرکاری تنظیموں کا انتظام کرتی ہے نے فوری طور پر تبصرہ کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

افغانستان کا امدادی شعبہ پہلے سے ہی خواتین امدادی کارکنوں سمیت متعدد پابندیوں کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کی زیرقیادت سالانہ انسانی ہمدردی کے منصوبے کے لیے فنڈنگ میں کمی سے واضح ہو گیا ہے کہ ڈونر ممالک مالی امداد سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں