سری لنکا کی والٹنگ کوئین دبئی میں گھریلو ملازمہ کیسے بنی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سری لنکا جو کبھی ما بعد نو آبادیاتی نظام میں کامیابی کے نمونے کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ طویل عرصے تک اس کی اقتصادی کامیابی کی کہانی بطور مثال پیش کی جاتی رہی اور جنوبی ایشیائی ممالک میں اس کی اوسط آمدنی سب سے زیادہ تھی۔

اس کے بنیادی ڈھانچے کا معیار، مفت صحت عامہ اور تعلیمی نظام کے ساتھ ساتھ اس کی اعلی سماجی ترقی کو بے حد اہمیت دی جاتی تھی۔ مگر پھر اس ملک کے ڈرامائی زوال نے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ معاشی بدحالی نے سری لنکا کے عوام کو مشکلات کے گہرے سمندر میں دھکیل دیا اور ایسے میں کئی انسانی المیوں نے جنم لیا۔

ایسی ہی ایک کہانی پول والٹ میں قومی ریکارڈ قائم کرنے والی سچنی پریرا کی ہے جنہیں ایک وقت پر سری لنکا کی 'والٹنگ کوئین' قرار دیا گیا مگر آج وہ معاشی مشکلات کے باعث اپنے ملک سے کوسوں دور دبئی میں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرکے اپنے خاندان کی کفالت کرتی ہیں۔

عالمی سطح پر سری لنکا کی نمائندگی کرنے والی 24 سالہ سچنی پریرا اپنے ایتھلیٹکس کے شوق کو اس وقت جاری نہ رکھ پائیں جب سری لنکا کے کرنسی کے بحران اور بڑھتے ہوئے طبی اخراجات نے ان کے لیے اپنی والدہ کا علاج اور دیکھ بھال کرنا مشکل بنا دیا، جنہیں طویل مدتی دیکھ بھال کی ضرورت تھی۔

فوٹو دی نیشنل
فوٹو دی نیشنل

جمناسٹک پریرا کی اولین محبت تھی۔ نو عمری میں انہوں نے 2014 کے کامن ویلتھ گیمز سمیت بین الاقوامی مقابلوں میں اپنے ملک کی نمائندگی کی۔

قومی سطح پر انہوں نے 2018 اور 2022 کے درمیان لگاتار پول والٹ چیمپئن شپ جیتی ہے اورخواتین کے پول والٹ ریکارڈ کو لگاتار نو بار اپنے نام کیا۔

2017 کے بعد انہوں نے سری لنکا کی فوج کی نمائندگی کی اور کئی اعزازات جیتے۔

تاہم، سچنی اپنے خوابوں اور کامیابوں کا یہ سفر اس وقت روکنے پر مجبور ہوگئیں جب ان کی والدہ کو اچانک فالج کا دورہ پڑا اور وہ جزوی طور پر مفلوج ہو گئیں۔

اسی دوران سری لنکا کی معاشی تباہی نے گذشتہ سال ایندھن، اشیائے خور ونوش اور بجلی سمیت تمام ضروریات زندگی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا، کرنسی کی قدر گر گئی اور 1948 میں آزادی کے بعد پہلی بار ملک بیرونی قرضوں میں نادہندہ ہوا۔

اس صورتحال نے 311,000 سے زیادہ لوگوں کو ملازمتوں کی تلاش میں ملک چھوڑنے پر مجبور کیا، اور ان میں سے زیادہ تر نے خلیجی ممالک کا رخ کیا۔

فوٹو دی نیشنل
فوٹو دی نیشنل

مالی مشکلات اور کھیلوں کی عدم سرپرستی سے دلبرداشتہ سچنی پریرا نے دبئی میں نوکری تلاش کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ اپنی والدہ کے علاج کے اخراجات ادا کر سکیں۔

پریرا اپنی ماہانہ تنخواہ کا زیادہ تر حصہ اپنی ماں کی دیکھ بھال کے لیے گھر بھیجتی ہیں، جو اب چند قدم چل سکتی ہیں۔

ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے جب انہوں نے کراس بارز اور کریش میٹس کی جگہ پونچے اور بالٹی کا انتخاب کیا مگر اب بھی وہ ایتھلٹکس میں گولڈ میڈل جیتنے کے خواب دیکھتی ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے اخبار دی نیشنل سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے لیے اپنے مقصد سے ہٹنا آسان نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں اپنے مقابلے، اپنے خواب، اپنے مستقبل کو اب بھی یاد کرتی ہوں۔ "یہ بہت مشکل ہے۔"کبھی کبھی میں اپنے کوچ اور اپنے والد کے ساتھ روتی بھی ہوں۔"

ان تمام مشکلات کے باوجود وہ پرعزم ہیں کہ وہ اپنے ملک اور اپنے لوگوں کی نمائندگی کرتے ہوئے عالمی سطح پر طلائی تمغہ جیتیں گی۔

دن کے وقت وہ دبئی کے ایک گھر پر ایک چھوٹے بچے کی دیکھ بھال اور گھر کا کام کاج کرتی ہیں، کام کے بعد ورزش کے لیے وقت ضرور نکالتی ہیں۔ وہ سری لنکا میں اپنے کوچ کی طرف سے بھیجے گئے ہفتہ وار تربیت کے شیڈول کی پیروی کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "یہ تو صرف ایک کہانی ہے۔ سری لنکا میں ہمارے آس پاس بہت سی کہانیاں ہیں، لوگوں کو ان کے بارے میں جاننا چاہیے، انہیں مدد کی ضرورت ہے،‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں