پینٹاگون سربراہ کا مشرق وسطیٰ میں مزید امریکی فوجی اثاثے تعینات کرنے کا اعلان

پینٹاگون نے کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز اور آس پاس کے پانیوں میں تجارت کے آزادانہ بہاؤ کو خطرے میں ڈالنے کی حالیہ کوششوں کے جواب میں اضافی امریکی افواج خطے میں بھیجی جا رہی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پینٹاگون نے جمعرات کو مشرق وسطیٰ میں نئے امریکی فوجی اثاثوں کی تعیناتی کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان ایران کی جانب سے خطے میں تجارتی ٹینکروں پر قبضے کی حالیہ کوششوں کے جواب میں کیا گیا۔

سکریٹری آف ڈیفنس لائیڈ آسٹن نے علاقے میں ایمفیبیئس ریڈی نیس گروپ/میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ کی تعیناتی کا حکم دیا۔ یہ ایف 35، ایف 16 طیاروں اور ایک گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر، یو ایس ایس تھامس ہڈنر (ڈی ڈی جی 116) کے علاوہ ہے جسے پہلے روانہ کیا گیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا کہ ایمفیبیئس یونٹ اضافی ہوا بازی، بحری اثاثے اور امریکی میرینز لے کر آئے گا، جس سے "خطے میں اور بھی زیادہ لچک اور سمندری صلاحیت ملے گی۔"

سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل ایرک کوریلا نے کہا کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں جہاز رانی کی آزادی کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ "یہ اضافی قوت منفرد صلاحیتیں فراہم کرتی ہے، جس سے خطے میں ہمارے شراکت دار ممالک کے ساتھ، بین الاقوامی تجارت کے آزادانہ بہاؤ کو مزید تحفظ فراہم ہوگا اور قوانین پر مبنی بین الاقوامی نظام کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی، اور یہ خطے میں ایران کی جانب سے عدم استحکام کی سرگرمیوں کو بھی روکے گی۔"

پینٹاگون نے کہا کہ وہ ہم خیال شراکت داروں کے ساتھ کام جاری رکھے گا جو تجارت کے آزاد بہاؤ کے لیے پرعزم ہیں اور قوانین پر مبنی بین الاقوامی نظام کو لاحق خطرات کے خلاف مربوط کارروائیاں کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں