امریکا اورآسٹریلیا کی فوجی مشق میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کے تجربات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

آسٹریلیا اور امریکا نے ہفتے کے روز جنگی مشق کے دوران میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے براہ راست تجربات کیے ہیں جبکہ کینبرا نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کے حق میں اپنی فوجی حکمتِ عملی میں تبدیلی کی ہے۔

دونوں ملکوں کی افواج نے کوئنز لینڈ کے شمال مشرقی علاقے میں واقع شول واٹر بے ملٹری کمپلیکس میں براہ راست فائرنگ کی مشق کی ہے۔اس میں حال ہی میں آسٹریلوی دفاعی فورس کو فروخت کیے گئے امریکی ساختہ ہیمارس میزائل سسٹم کی نمائش کی گئی۔

دوسال کے بعد ہونے والی یہ مشترکہ مشقیں اگلے دو ہفتے جاری رہیں گی اور ان میں 30 ہزار سے زیادہ فوجی حصہ لیں گے۔ان میں جاپان، فرانس، جرمنی اور جنوبی کوریا کے فوجی بھی شامل ہیں۔یہ مشقیں ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب آسٹریلیا اپنی مسلح افواج میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کر رہا ہے۔اس کا مقصد چین جیسے ممکنہ دشمنوں کو اپنی سرحدوں دور رکھنے کی کوشش میں طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیتوں پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔

آسٹریلوی فوج کے میجر ٹونی پرڈی نے کہا کہ یوکرین کی فوج کے حال ہی میں زیر استعمال آنے والا تباہ کن اثرات کا حامل ہیمارس ہتھیار 'طویل فاصلے تک ٹھیک ٹھیک نشانہ بنانے کی صلاحیت میں اضافہ کرے گا۔

یادرہے کہ ایچ آئی ایم اے آر ایس (ہیمارس)- یا ہائی موبلٹی آرٹلری راکٹ سسٹم - 1990 کی دہائی میں لاک ہیڈ مارٹن نے ریاست ہائے متحدہ امریکا کی فوج کے لیے تیار کیا تھا۔

دفاعی حکام نے اس کی "شوٹ اینڈ اسکوٹ صلاحیت" کی تعریف کی ہے۔اسے رکھا جاسکتا ہے ، فائر کیا جاسکتا ہے ، منتقل کیا جاسکتا ہے اور تیزی سے دوبارہ لوڈ کیا جاسکتا ہے ، جس سے دشمن کے لیے تلاش کرنا اور نشانہ بنانا مشکل ہوجاتا ہے اور اس کو چلانے والے عملہ کے لیے خطرہ کم ہوجاتا ہے۔

آسٹریلیا کا کو پہلے ہیمارس نظام کی ترسیل 2025 میں متوقع ہے اور یہ اگلے دو سال میں اس کی فوج کے استعمال میں آئے گا۔

چین ان مشقوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔یہ کہا جاتا ہے کہ یہ مشقیں ایشیا،بحرالکاہل میں چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت کے بارے میں تشویش کے تناظر میں ہو رہی ہیں۔

آسٹریلیا کے جوائنٹ آپریشنز کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل گریگ بلٹن نے جمعہ کو صحافیوں کو بتایا کہ ایک چینی جاسوس جہاز کو آسٹریلیا کے شمال مشرقی ساحل کے قریب اس وقت دیکھا گیا جب اس کی تیاریاں جاری تھیں۔

ان مشقوں میں آسٹریلیا کی متعدد ریاستوں اور خطوں میں فوجی بحری لینڈنگ، فضائی لڑائی اور میری ٹائم آپریشنز بھی انجام دیں گے۔امریکی افواج کے ترجمان میجر جمی شیحان کا کہنا ہے کہ ان مشقوں سے شراکت داری، گنجائش اور شراکت دار ممالک کی تعداد میں اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔

انھوں نے اے ایف پی کو بتایا:’’زبان کی رکاوٹوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، ہوا اور زمین دونوں سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کو ہم آہنگ کرنا ایک چیلنج ہے لیکن آج ہم نے آسٹریلیا، امریکا، جاپان اور جمہوریہ کوریا کے فوجیوں کو کمانڈ اینڈ کنٹرول سے لے کر ٹیکٹیکل سطح پر عملدرآمد تک ایک یونٹ کے طور پر کامیابی سے کام کرتے دیکھا ہے‘‘۔

مشترکہ فوجی مشق کی تفصیل کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے مزید کہا: ’’ان اقدامات کے نتیجے میں آسٹریلیا اور امریکا کی خطے میں عالمی سلامتی کے چیلنجوں کا جواب دینے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں