سوڈان میں خوراک کا بحران شدید، موسیقار بھوک سے مر گیا

دو جرنیلوں کی جنگ کے باعث خرطوم کی آبادی کا موت کی جانب سفر تیز ہوتا جا رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوڈان میں اس وقت غم و الم کے کی کیفیت طاری ہوگئی جب موسیقار خالد سنہوری کے بھوک کی وجہ سے انتقال کی خبر آگئی۔ سوڈان میں فوج اور سریع الحرکت فورس کے درمیان جاری لڑائی ملک میں خوراک کا بحران شدید کرتی جارہی ہے۔ موسیقیار خالد سنہوری کئی روز سے اپنے گھر میں تھے اور کھانا نہیں کھا رہے تھے۔ ان کے قریبی لوگوں نے بتایا کہ ان کے بھائی کو انہیں گھر کے باہر عوامی نقل و حمل کے لیے دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔

دارالحکومت کے بہت سے رہائشی بھی اپنے ساتھ پیش آنے والے اسی خطرہ سے دو چار ہیں۔ دکانوں کی بندش اور پیسوں کے شدید بحران کے باعث لوگوں کے لیے خوراک کا حصول مشکل ہوتا جارہا ہے۔

موسیقار سینہوری بھوک سے مرنے والا پہلا جنگی شکار نہیں ہے۔ گزشتہ ماہ آرمینیائی نژاد دو بہنیں العمارات کے بلند و بالا نواحی علاقے میں اپنے گھر میں فاقہ کشی سے مر گئیں۔ وہ علاقے پر مسلسل بمباری کی وجہ سے کھانے پینے کی چیزیں لینے باہر نہیں نکل سکیں تھیں۔ وہ 55 دن کے محاصرے کے بعد دم توڑ گئیں۔ بحری کے علاقہ میں ستر کی دہائی میں ایک شخص بھوکا مر گیا ۔ وہ کئی روز تک روٹی کا ایک ٹکڑے کے حصول سے بھی قاصر ہوگیا تھا۔

خرطوم میں سماجی ترقی کے وزیر صدیق فرینی نے بتایا کہ خرطوم کے شہریوں کو فوری مدد کی ضرورت ہے۔ حالانکہ خوراک کا مطالبہ کرنے والوں کی آواز اب بھی کم ہے۔

فاقہ کشی کے بارے میں بات کرنا مبالغہ آرائی نہیں کیونکہ دارالحکومت اس وقت خوراک کی شدید قلت سے دوچار ہے۔ خوراک کی قلت کی وجہ دکانوں کی بندش اور دکانوں میں ہونے والی لوٹ مار ہے۔ بہت سے ملازمین کے پاس روٹی خریدنے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ حکومت 3 ماہ سے زیادہ عرصے سے اپنے ملازمین تنخواہیں ادا کرنے سے قاصر ہے۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اجناس اور کھانے پینے کی اشیاء تیار کرنے والی فیکٹریوں پر بھی بمباری کی گئی ہے۔ اسی طرح کئی واقعات میں ایسی فیکٹریوں میں لوٹ مار بھی کی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں