صدر زیلنسکی پر تنقید کے بعد برطانیہ میں یوکرینی سفیر برطرف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی نے جمعہ کو برطانیہ میں تعینات اپنے سفیر وادیم پرستائیکو کو برطانوی فوجی امداد سے متعلق تنازعہ میں صدر کے ردعمل پر تنقید کے بعد بر طرف کر دیا۔

پریستائیکو نے برطانوی وزیر دفاع بین والیس کے اس بیان پر زیلنسکی کے طنزیہ ردعمل پر تنقید کی تھی کہ یوکرین کو اپنے اتحادیوں سے ہتھیاروں کی فراہمی کے لیے مزید شکر گزار ہونا چاہیے۔

زیلینسکی نے پریستائیکو کو برطرف کرنے کے حکم نامے پر دستخط کیے، جو صدارتی ویب سائٹ پر شائع ہوا۔ تاہم کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب برطانوی وزیر دفاع نے رواں ماہ نیٹو کے سربراہی اجلاس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ یوکرین کے لیے ایمیزون ڈیلیوری سروس نہیں ہے اور تجویز دی کہ یوکرین برطانوی ہتھیاروں کے لیے مزید "شکر گزاری" کا اظہار کر سکتا ہے۔

خیال رہے کہ برطانیہ یوکرین کو ہتھیار فراہم کرنے والا بڑا ملک ہے اور فوجیوں کو تربیت بھی دیتا ہے۔

زیلنسکی نے سربراہی اجلاس میں ایک پریس کانفرنس میں برطانوی وزیردفاع کی تجویز کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ یوکرین کا اظہار تشکر اور کس طرح واضح کیا جائے، اب "ہم صبح اٹھ کر وزیر سے ذاتی طور پر اظہار تشکر کر سکتے ہیں۔"

یوکرین کے سفارت کار نے اسکائی نیوز کے انٹرویو میں اس بات سے اتفاق کیا کہ زیلنسکی کے جواب میں "ہلکا سا طنز" تھا۔

اسی انٹرویو میں انہوں نے برطانیہ کے ساتھ تعلقات کو ہموار کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ "میں نہیں مانتا کہ یہ طنز صحت مند ہے۔ ہمیں روسیوں کو یہ دکھانے کی ضرورت نہیں ہے کہ ہمارے درمیان کچھ ہے، انہیں یہ جاننا چاہیے کہ ہم مل کر کام کر رہے ہیں،"۔

پریستائیکو ایک کیریئر ڈپلومیٹ ہیں جو جولائی 2020 سے برطانیہ میں سفیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ اس سے قبل وہ 2019 سے 2020 تک یوکرین کے وزیر خارجہ تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں