نیتن یاہو کے حامی جنرل نے فوج پر بغاوت کی منصوبہ بندی کا الزام لگا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک ایسے وقت میں جب اسرائیل میں شدید سیاسی تقسیم دیکھی جارہی ہے فوج میں بھی تقسیم ہونا ہوگئی ہے۔ اسرائیل میں عدالتی اصلاحات کے منصوبے پر پیدا ہونے والا بحران مختلف اکائیوں کی ہم آہنگی کو متاثر کرنے لگا ہے۔

وزیر اعظم نیتن یاھو کی قریب دائیں بازو کی سکیورٹی کونسل کے رکن جنرل گیرشون ہاکوہن نے کہا ہے کہ اس صورت حال میں فوجی افواج کی صفوں اور سیکورٹی سروسز میں زلزلہ آ سکتا ہے جو اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا باعث بن سکتا ہے جس کی بحالی آسان نہیں ہو گی۔

ہاکوہن نے کہا کہ آرمی کے چیف آف سٹاف جنرل ہرزی ھیلیوی پر سابق جرنیلوں اور شاید موجودہ جرنیلوں سمیت بہت سے لوگوں کا دباؤ ہے جو انہیں وزیر اعظم کے پاس جانے اور عدلیہ میں اصلاحات کے اپنے سیاسی منصوبے کو روکنے کے لیے کہہ سکتا ہے۔

ہاکوہن نے کہا ہے کہ یہ ایک قسم کی فوجی بغاوت کے مترادف ہو گا جس کا اسرائیل نے کبھی مشاہدہ نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ٹینکوں کو حکومتی ہیڈکوارٹرز اور کنیسٹ کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں بلکہ یہ ایک خطرناک بلیک میل ہوگا اور فوج کی طاقت اور اثر و رسوخ کا گھناؤنا استحصال ہو گا۔

ہاکوہن کا بیان ہیلیوی کے انتباہ کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں انہوں نے کہا کہ اسرائیلی معاشرے میں عوامی گفتگو سے فوج کو خطرہ درپیش ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں