واشنگٹن کے کسی تعاون کی ضرورت نہیں، داعش امہ کے لیے فتنہ ہے: ملا یعقوب

القاعدہ عناصر کی بطور مشیر ہم میں موجودگی کی یو این رپورٹس غلط ہیں: افغان وزیر دفاع، ’’ العربیہ‘‘ کو انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

افغانستان میں طالبان کی حکومت میں وزیر دفاع محمد یعقوب مجاہد نے واشنگٹن کے ساتھ تعاون یا مذاکرات سے انکار کیا اور کہا ہم سے جو کہا گیا تھا اس پر عمل کرنے کے بعد دنیا کو چاہیے اب طالبان کو تسلیم کرے۔

انہوں نے "العربیہ" کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں مزید کہا کہ طالبان افغانستان کے اندر سے کسی کو بھی دھمکیاں دینے کی اجازت نہیں دیں گے۔ القاعدہ کے عناصر کی ہمارے مشیر کے طور پر موجودگی کے حوالے سے اقوام متحدہ کی رپورٹیں غلط ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ طالبان کو واشنگٹن کے ساتھ کسی قسم کے تعاون یا مذاکرات کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی ایران کے ساتھ طویل سرحدیں ہیں اور ہم ایران کے ساتھ یا اپنے پڑوسیوں کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں چاہتے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت نے افغانستان کی سرزمین کو کسی بھی ملک پر حملے کے لیے استعمال نہ کرنے کا عہد کیا ہے۔ ملا یعقوب مجاہد نے کہا کہ افغانستان کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے زیادہ تر طیارے پاکستان سے آتے ہیں۔

افغانستان کے وزیر دفاع نے کہا کہ داعش امت مسلمہ کے لیے ایک فتنہ ہے۔ ہم نے افغانستان میں داعش خراسان کو سخت ضربیں لگائی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ طالبان کی صفوں میں داعش کا کوئی رکن نہیں ہے۔

انہوں نے کابل میں القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کو نشانہ بنانے میں طالبان کے ملوث ہونے کی تردید کی اور کہا کہ ہم نے بغیر مقدمہ چلائے کسی کو قتل نہیں کیا۔ لیکن بعض یہ لوگ ایسے تھے جو تصادم کے دوران مارے گئے۔

"العربیہ" کو انٹرویو دیتے ہوئے ملا یعقوب نے مزید کہا کہ طالبان نے امریکی انخلاء کے بعد سابق صدر اشرف غنی کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا۔ درحقیقت ہم نے ان پر کوئی توجہ ہی نہیں دی۔

طالبان کے وزیر دفاع نے افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد پیدا ہونے والی افراتفری کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہراتے ہوئے زور دیا کہ ہم نے امریکیوں کے ساتھ صرف دو باتوں پر اتفاق کیا تھا۔ افغانستان سے امریکی افواج کا مکمل انخلا ہوگا اور افغان سرزمین کو ان کے خلاف استعمال نہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ایک اہم اور قیادت کرنے والا ملک ہے۔ ہم اپنے ملک کے مستقبل میں اس کے کردار ادا کرنے کے منتظر ہیں۔

واضح رہے اگست 2021 میں طالبان نے افغان دارالحکومت کابل پر قبضہ کر لیا تھا اور افغان فوج کی جانب سے کسی خاص مزاحمت کے بغیر سابق صدر اشرف غنی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں