یوکرین جنگ کے خلاف احتجاج، سابق روسی سفارت کار نانبائی بن گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یوراگوئے میں اپنی قومیت والے ملک روس کی جانب سے اپنے جائے پیدائش والے ملک یوکرین کے خلاف جنگ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سابق خاتون روسی سفارت کار ایکارینا جرمنووچ نے انوکھا احتجاج کیا۔ جنگ سے ہزاروں کلومیٹر دور جرمنووچ نے احتجاج کرتے ہوئے نانبائی کا پیشہ اختیار کرلیا۔

یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن کے خلاف احتجاج میں مونٹیویڈیو میں روسی سفارت خانے میں اقتصادی مشیر کے طور پر اپنی ملازمت چھوڑنے کے بعد جرمنووچ نے اپنے لیے ایک نیا راستہ نکالا اور بیکنگ کے پیشہ میں سکون کی تلاش کی۔ انہوں نے یوراگوئے میں اس حوالے سے قومی مقابلہ بھی جیت لیا۔

لاطینی امریکہ کے اس چھوٹے ملک میں ایک معروف شخصیت بننے کے بعد ایجنسی فرانس پریس کے ساتھ ایک انٹرویو میں جرمنووچ نے یوکرین کی جنگ کو ایک ایسا درد قرار دیا جو کبھی دور نہیں ہو گا۔

انہوں نے مونٹیویڈیو میں اپنے گھر پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جنگ نے ایک دراڑ پیدا کر دی ہے جسے ٹھیک ہونے میں کئی دہائیاں لگیں گی۔ خاندان ٹوٹ کر الگ ہو گئے ہیں۔ 40 سال قبل زپوریزیا میں پیدا ہونے والی جرمنووچ بعد میں ماسکو چلی گئی تھیں۔

جرمنووچ کے پاس صرف روسی شہریت ہے۔ لیکن انہوں نے اپنے بچپن کی چھٹیاں یوکرین میں گزاریں اور ان کے رشتہ دار دونوں ملکوں میں موجود ہیں۔ یوکرین میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے وہ اپنے بہت سے رشتہ داروں سے کٹ چکی ہے۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ یوکرین میں روس میں لوگوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے رابطے کو غداری سمجھا جاتا ہے۔ یہی بات روسی جانب بھی درست ہے۔ یوکرین میں ہمارے کچھ رشتہ داروں نے ہم سے رابطہ کرنا بند کر دیا ہے کیونکہ ہمارے پاس روسی شہریت ہے۔

جرمنووچ نے روسی آپریشن کے آغاز کے چند دن بعد مارچ 2022 میں اپنے سفارتی عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں