روس اور یوکرین

صدر پوتین کا لوکاشینکو سے واگنرملیشیا اور یوکرین کی جوابی کارروائی پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

روس کے صدر ولادی میر پوتین نے اپنے قریبی اتحادی بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو سے ملاقات کی ہے اور ان سے واگنر ملیشیا کے مستقبل اور یوکرین کی جوابی فوجی کارروائی کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔

دونوں لیڈروں کے درمیان گذشتہ ماہ روس میں واگنر جنگجوؤں کی بغاوت کے بعد یہ پہلی ملاقات ہے۔صدر لوکا شینکو نے اس مسلح بغاوت کے خاتمے کے لیے ایک معاہدہ طے کرانے میں مصالحت کار کا کردار ادا کیا تھا۔

لوکاشینکو کی پریس سروس کی جانب سے اتوار کے روز پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دونوں رہنما بات چیت سے قبل سینٹ پیٹرزبرگ کے کونستانتینوفسکی محل میں ایک ساتھ پہنچ رہے ہیں۔

روسی خبر رساں اداروں کے مطابق صدر پوتین نے اپنے بیلاروسی ہم منصب کو بتایا کہ یوکرین سے روسی افواج کو پیچھے دھکیلنے کے لیے یوکرین کا جوابی حملہ ناکام ہو گیا ہے۔

خبر رساں ادارے تاس کے مطابق لوکاشینکو کا کہنا تھا کہ 'کوئی جوابی حملہ نہیں کیا جا سکتا' لیکن وہ ناکام ہو چکا ہے۔انھوں نے کہا کہ وہ وسطی بیلاروس میں روس کی واگنرملیشیا کے کرائے کے فوجیوں کی "میزبانی" لررہے ہیں اور منسک اپنی سرزمین پر بدنام جنگجوؤں کے ساتھ صورت حال کو "کنٹرول" کر رہا ہے۔

لوکاشینکو نے مسکراتے ہوئے صدرپوتین سے کہا:’’وہ مغرب جانے کے لیے کَہ رہے ہیں اور مجھ سے اجازت مانگ رہے ہیں لیکن یقیناً، میں انھیں وسطی بیلاروس میں رکھ رہا ہوں، جیسا کہ ہم نے اتفاق کیا تھا‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ واگنر کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے،ہم اسے کنٹرول کر رہے ہیں‘‘۔

ولادی میر پوتین اور لوکاشینکو نے روس کے جزیرے کوتلین میں واقع قصبے کرون شتت میں لوگوں کے ایک ہجوم سے ملاقات بھی کی۔روسی اخبارکومرسانت نے ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے جس میں پوتین اور لوکاشینکو لوگوں کے ساتھ تصویریں بنوا رہے ہیں۔ روس میں کرونا وائرس کی وَبا کے بعد نافذ کیے جانے والے قرنطینہ قوانین کے بارے میں پوچھے جانے پر صدرپوتین نے جواب دیا کہ ’’لوگ قرنطینہ سے زیادہ اہم ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ یوکرین نے گذشتہ ماہ اپنی طویل عرصے سے متوقع جوابی کارروائی کا آغاز کیا تھا لیکن اب تک اس نے روسی فوج کے خلاف صرف معمولی کامیابی حاصل کی ہے۔روسی فوج قریباً 17 ماہ کی جنگ کے بعد یوکرین کے چھٹے حصے پر قابض ہے۔

امریکا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سربراہ جنرل مارک میلی نے منگل کے روز کہا تھا کہ یوکرین کی مہم "ناکامی سے بہت دور" ہے لیکن یہ طویل، سخت اور خونیں ہوگی۔

لوکاشینکو سے منسلک ایک ٹیلی گرام چینل نے ان کے حوالے سے مزاحیہ لہجے میں کہا کہ روس کے کرائے کے گروپ واگنر کے جنگجو اب بیلاروس کی فوج کو تربیت دے رہے ہیں، وہ سرحد پار نیٹو کے رکن پولینڈ میں داخل ہونے کے خواہاں ہیں۔

’’واگنر کے کھلاڑیوں نے ہم پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے ۔وہ مغرب میں جانا چاہتے ہیں۔ آئیے وارسا اور ریززو کے دورے پر جاتے ہیں‘‘۔ اس بات کا کوئی اشارہ نہیں تھا کہ لوکاشینکو یہ بات تفریح طبع کے لیے کررہے تھے یا وہ اس خیال میں سنجیدہ تھے۔

پولینڈ واگنر فورسز کی بیلاروس میں آمد کے جواب میں اس کی سرحد کے ساتھ اپنے اضافی فوجیوں کو منتقل کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں