پاپائے روم کا تباہ کن موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مزید اقدامات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

رومن کیتھولک کے روحانی پیشوا پوپ فرانسیس نے کہا ہے کہ دنیا کے کئی حصوں میں گرمی کی حالیہ لہر اور جنوبی کوریا جیسے ممالک میں سیلاب سے ظاہر ہوتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مزید فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

پوپ نے سینٹ پیٹرز اسکوائر، ویٹی کن سٹی میں اتوار کو ہجوم کے نام اپنے روحانی پیغام کے اختتام پر کہا:’’براہِ مہربانی، میں عالمی رہنماؤں سے اپنی اپیل کی تجدید کرتا ہوں کہ وہ آلودگی کے اخراج کو محدود کرنے کے لیے کچھ اور ٹھوس اقدامات کریں‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’یہ ایک فوری چیلنج ہے، اسے ملتوی نہیں کیا جا سکتا، یہ سب سے متعلق ہے۔آئیے ہم اپنے مشترکہ گھر کی حفاظت کریں‘‘۔

پوپ فرانسیس نے دنیا پر زور دیا ہے کہ وہ فوسیل ایندھن کو تیزی سے ختم کرے اور ماحولیات کے تحفظ کو اپنی حکمت عملی کا بنیادی ستون بنائے۔ انھوں نے 2015 میں اپنےتاریخی مقالے'لاؤڈ ایٹو سی' میں کہا تھا کہ ’’یہ سیارہ گندگی کے ایک بڑے ڈھیر کی طرح نظر آنے لگا ہے‘‘۔

روحانی پیشوا نے موسمیاتی بحران کا شکار ہونے والوں اور ان کی مدد کرنے والوں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا ہے۔

اس وقت جنوبی امریکا کے کچھ حصوں میں ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر جاری ہے۔اس کے علاوہ چین اور اٹلی اور یونان سمیت جنوبی یورپ میں بھی شدید درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا ہے۔

یونان کے جزیرے رہوڈز میں لگنے والی آگ سے ہزاروں سیاح اور مقامی لوگ متاثر ہوئے ہیں اور اس آگ نے جزیرے کے مکینوں کو اتوار کے روز اسکولوں اور بند اسٹیڈیموں میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں