او آئی سی کی قرآن پاک کی بے حرمتی کی شدید مذمت ، ڈنمارک کی خصوصی ایلچی کی حیثیت معطل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہم طحہ نے ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں عراقی سفارت خانے کے سامنے ایک انتہا پسند گروپ کی طرف سے قرآن پاک کے نسخے کو نذر آتش کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور او آئی سی میں سویڈن کی خصوصی ایلچی کی حیثیت کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

او آئی سی کے سیکرٹری جنرل، حسین ابراہیم طحہ نے "اسلامی مقدسات کی خلاف ورزی" کے بار بار ہونے والے واقعات پر اپنے گہرے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں "مذہبی منافرت، عدم برداشت اور تفریق کو ہوا دیتی ہیں" جس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔

ڈنمارک اور سویڈن میں ہونے والے مسلم مخالف واقعات کے سلسلے میں تازہ ترین واقعہ اس ہفتے پیش آیا جس نے ایک سفارتی طوفان برپا کر دیا۔

ہفتے کے شروع میں، سویڈن میں رہنے والے ایک عراقی تارک وطن سلوان مومیکا نے قرآن کی بے حرمتی کی، اس سے چند ہفتے قبل اس نے اسٹاک ہوم کی ایک مسجد کے باہر مقدس کتاب کے صفحات کو آگ لگا دی تھی۔

جنوری میں، انتہائی دائیں بازو کے ڈنمارک کے رہنما راسموس پالودان نے بھی اسٹاک ہوم میں ترکی کے سفارت خانے کے سامنے قرآن کا ایک نسخہ نذر آتش کر دیا تھا۔

اسلامی دنیا کے مسلم رہنماؤں اور حکومتوں نے ان کارروائیوں کی مذمت کی ہے، جن کی مقامی حکام نے بظاہر آزادی اظہار کے حق کے مطابق اجازت دی تھی۔

سکریٹری جنرل او آئی سی نے ڈنمارک کی حکومت پر زور دیا کہ وہ ایسی اشتعال انگیز کارروائیوں کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے اور ان کے نتائج سے گریز کرے۔

اتوار کو ،او آئی سی ایگزیکٹو کمیٹی کے غیر معمولی اجلاس کی طرف سے جاری کردہ حتمی اعلامیے میں کہا گیا کہ اس طرح کی اشتعال انگیزیاں شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے کے آرٹیکل (19) اور (20) کی روح کے خلاف ہیں اور اظہار رائے کی آزادی یا جواز کے تحت نہیں آتیں۔

اجلاس میں شامل تمام ممالک نے مطالبہ کیا کہ کسی ایسے ملک سے تعلق کے سرکاری فریم ورک کا جائزہ لیتے ہوئے ممکنہ اقدامات کیے جائیں جس میں متعلقہ حکام کی رضامندی سے قرآن کریم یا دیگر اسلامی اقدار اور علامات کی بے حرمتی کی گئی ہو، ان میں خصوصی ایلچی کا درجہ معطل کرنا بھی شامل ہے۔

او آئی سی سیکرٹری جنرل نے اس فیصلے سے سویڈن کے وزیر خارجہ کو لکھے گئے ایک خط میں آگاہ کیا۔

او آئی سی نے کہا کہ اظہار رائے اور رائے کی آزادی کا حق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ داریوں کا حامل ہے، جس میں واضح طور پر مذہبی منافرت، عدم برداشت اور امتیازی سلوک پر اکسانے کی ممانعت ہے۔

اعلامیے میں "انسداد مذہبی منافرت جو امتیازی سلوک، دشمنی یا تشدد پر اکساتی ہے" سے متعلق قرارداد کی دفعات کا حوالہ بھی دیا، جسے حال ہی میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے منظور کیا تھا۔

سیکرٹری جنرل نے بعض رکن ممالک کی جانب سے اسلامی مقدسات پر بار بار حملوں کے خلاف احتجاج کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا خیر مقدم کیا اور انہوں نے تمام رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ خود مختار فیصلے کریں جو وہ مناسب سمجھیں۔

او آئی سی جنرل سیکرٹریٹ جلد از جلد وزرائے خارجہ کی کونسل کا ایک غیر معمولی اجلاس منعقد کرنے کی تیاری کر رہا ہے تاکہ اس مسئلے پر غور و خوض جاری رکھا جا سکے اور مناسب فیصلے لیے جائیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں