عدالتی ترمیم منظوری پر اکثر اسرائیلی سٹارٹ اپس بیرون ملک منتقل ہونے کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

اسرائیل کے تقریباً 70 فیصد اسٹارٹ اپس نے اپنے کاروبار کے کچھ حصوں کو اسرائیل سے باہر منتقل کرنے کے لیے کارروائی کی ہے۔ ایک اسرائیلی غیر منافع بخش تنظیم کی جانب سے اتوار کو جاری سروے میں حکومت کی جانب سے مجوزہ عدالتی اصلاحات کے بارے میں اسرائیلی کاروباری افراد سے سروے کیا گیا۔

سٹارٹ اپ نیشن سنٹرل کے سروے میں نیتن یاہو حکومت کے اقدامات کے اقتصادی اثرات کے منصوبوں کی پیمائش کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس مجوزہ قانون سازی سے سپریم کورٹ کے اختیارات کو محدود کردیا جائے گا۔

مزید برآں 22 فیصد کمپنیوں نے کہا کہ انہوں نے اسرائیل سے باہر نقدی کے ذخائر کو متنوع بنایا ہے اور 37 فیصد سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کے پورٹ فولیو میں موجود کمپنیوں نے اپنے کچھ کیش ریزرو کو واپس لے لیا ہے اور انہیں بیرون ملک منتقل کر دیا ہے۔

سٹارٹ اپ نیشن سنٹرل کے سی ای او ایوی ہاسن نے کہا کہ بیرون ملک کمپنی کو رجسٹر کرنے یا اسرائیل سے باہر نئے سٹارٹ اپس شروع کرنے جیسے رجحانات کو تبدیل کرنا مشکل ہوگا۔

یہ سروے اس وقت جاری کیا گیا جب قانون سازوں نے ایک بل پر بحث شروع کی ہے جو سپریم کورٹ کے اختیارات کو محدود کردے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں