روس اور یوکرین

یوکرین کو چند ماہ کے اندر F-16 جنگی طیارے مل جائیں گے: امریکی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اتوار کو’ CNN‘ کو دیے ایک انٹرویو میں اعلان کیا کہ یوکرین کو F-16 لڑاکا طیارے جلد ملیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین کو ان کی ترسیل میں کئی ماہ لگیں گے۔

بلنکن نے کہا کہ "اگر F-16 کے بارے میں فیصلہ کل کر دیا جاتا ہے تو اس پر عمل درآمد شروع ہونے میں کئی مہینے لگ جائیں گے۔"

انہوں نے "ہم تربیت، دیکھ بھال اور انہیں مشترکہ ہتھیاروں کی کارروائیوں میں استعمال کرنے کے مواقع کی دستیابی کے بارے میں بات کر رہے ہیں، ان سب میں وقت لگتا ہے۔"

اس سوال کے جواب میں کہ آیا ان کے خیال میں یوکرین امریکی جنگی طیارے حاصل کرے گا؟ انہوں نے کہا کہ "میرا خیال ہے یہ یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کرنا ضروری ہے کہ جب وہ انہیں حاصل کریں تو وہ مناسب طریقے سے تیار ہوں اور ان طیاروں کو سمجھداری سے استعمال کرنے کے قابل ہوں۔"

انہوں نے روسی خبر رساں ایجنسی ’ٹاس‘ کے حوالے سے مزید کہا کہ "ہماری عسکری قیادت اس بات کا تعین کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ کون سے (ہتھیار) یوکرینیوں کے لیے سب سے زیادہ موثر ہیں، انہیں کتنی جلدی تعینات کیا جا سکتا ہے، انہیں کس حد تک مؤثر طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے اور F-16 آپریشن آگے بڑھ رہا ہے۔"

بلنکن نے زور دے کر کہا کہ یوکرین نے روس کے زیر قبضہ اپنی 50 فیصد زمین واپس حاصل کر لی ہے اور اس کا جوابی حملہ جاری ہے جو کئی مہینوں تک جاری رہے گا۔

امریکی وزیر خارجہ بلینکن نے کہا ہے کہ یوکرین نے روس کے زیر قبضہ اپنے 50 فیصد علاقے واپس حاصل کرلیے ہیں۔ اس کا جوابی حملہ جاری ہے اور یہ کئی ماہ تک جاری رہے گا۔ انہوں نے یہ بات اتوار کو سی سی این سے گفتگو میں کی۔ اس سے قبل ہفتہ کے روز بلینکن نے کولوراڈو میں سپین سیکیورٹی فورم میں اپنی تقریر کے دوران کہا تھا کہ یوکرینی افواج کے جوابی حملے کے بارے میں کوئی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہے۔

بلینکن نے مزید کہا کہ ان کا خیال ہے کہ جوابی حملے کا منظر کیف کو فراہم کیے جانے والے آلات اور گزشتہ مہینوں میں تربیت یافتہ یوکرینی افواج کی تعیناتی سے بدل جائے گا۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا نے شروع سے کہا ہے کہ یہ مشکل مرحلہ ہو گا۔

بلینکن کے مطابق بہت سے لوگوں نے کہا ہے کہ روسیوں نے دفاع کی سنجیدہ اور مضبوط خطوط تیار کی ہیں لیکن اب یوکرینی ان کو توڑ رہے ہیں۔

خیال رہے روس کے صدر پوتین نے جمعہ کو کہا تھا کہ یوکرین کی جانب سے ملک کے جنوب اور مشرق میں روسی افواج کو پسپا کرنے کے لیے شروع کیے گئے جوابی حملے کا مغربی مالی اور فوجی مدد کے باوجود کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں