طالبان کی ڈیڈ لائن ختم ہونے پر کابل میں بیوٹی سیلونز کی تالا بندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

طالبان حکام کے حکم کے بعد منگل کو افغانستان بھر میں ہزاروں بیوٹی پارلرز مستقلاً بند ہو جائیں گے۔ اس بندش سے خواتین کو دستیاب معدودے چند ذرائع آمدن میں سے ایک ذریعہ ختم ہونے کے ساتھ ہی میل جول کی ایک دلپسند جگہ بھی بند ہو جائے گی۔

اگست 2021ء میں ملک پر قبضہ کرنے کے بعد سے طالبان حکومت نے لڑکیوں اور خواتین کو ہائی سکول اور یونیورسٹی جانے سے روک دیا ہے، پارکوں، تفریحی مقامات، اور جم میں داخلے پر پابندی لگا دی ہے، اور ان کے عوامی مقامات پر پردہ کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

لیکن گذشتہ ماہ جاری کیے گئے ایک آرڈر کی بنا پر ملک بھر میں ہزاروں بیوٹی سیلون کو جبری بندش کا سامنا ہے جو خواتین چلاتی ہیں - اکثر یہ گھر کا واحد ذریعۂ آمدن ہوتا ہے - اور یہ آرڈر گھر سے باہر ان کے سماجی میل جول کے چند مواقع کو غیرقانونی قرار دیتا ہے۔

کابل سیلون کی ایک گاہک، بہارہ نے کہا، "ہم یہاں مل کر اپنے مستقبل کے بارے میں بات کرکے وقت گذارنے آیا کرتی تھیں۔ اب یہ حق بھی ہم سے واپس لیا جا رہا ہے۔ خواتین کو تفریحی مقامات پر جانے کی اجازت نہیں تو ہم کیا کریں؟ ہم اپنا دل بہلانے کے لیے کہاں جائیں؟ ہم ایک دوسرے سے ملنے کے لیے کہاں جائیں؟"

گذشتہ ہفتے، سیکیورٹی اہلکاروں نے اس حکم کے خلاف کابل میں مظاہرہ کرنے والی درجنوں عورتوں کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی اور آگ کی نالیوں کا استعمال کیا۔

جون کے اواخر میں وزارت امر بالمعروف و نہی عنہ المنکر نے سیلونز کو بند کرنے کے لیے منگل تک کا وقت یہ کہہ کر دیا کہ یہ رعایتی مہلت میک اپ کا ذخیرہ ختم کرنے کے لیے تھی۔

بیوٹی سیلونز میں استمال ہونے والے آرام دہ صونہ نم کرسیاں
بیوٹی سیلونز میں استمال ہونے والے آرام دہ صونہ نم کرسیاں

وزارت نے کہا کہ یہ حکم اس لیے دیا گیا کہ بناؤ سنگھار پر ہونے والی فضول خرچی غریب خاندانوں کے لیے مالی مشکلات کا سبب بنتی ہے اور سیلونز میں ہونے والی بعض زیبائش غیر اسلامی ہے۔

وزارت نے کہا کہ بہت زیادہ میک اپ عورتوں کے درست وضو میں رکاوٹ ہے جبکہ مصنوعی پلکیں اور مصنوعی بال لگانا بھی ممنوع ہے۔ اے ایف پی کی ملاحظہ کردہ نقل کے مطابق، یہ آرڈر سپریم لیڈر، ہیبت اللّٰہ کی زبانی ہدایات پر مبنی تھا۔

اقوامِ متحدہ کی افواج کے ملک پر قبضے کے بیس سالوں کے دوران کابل اور دیگر افغان شہروں میں جابجا بیوٹی پارلرز بن گئے تھے۔
یہ خواتین کے لیے مردوں سے الگ جمع ہونے اور سماجی میل جول کے لیے گویا ایک محفوظ جگہ سمجھے جاتے تھے اور ان سے خواتین کو روزگار کے بہت اہم مواقع مل جاتے تھے۔

طالبان کے قبضے کے بعد ہزاروں خواتین سرکاری ملازمین کو ملازمت سے محروم ہونا پڑا یا انہیں گھر تک محدود رہنے کا معاوضہ دیا جاتا ہے۔
لیکن افغانستان کے خواتین ایوانِ صنعت و تجارت کے مطابق، بیوٹی پارلرز پر پابندی سے تقریباً 12,000 سیلونز پر کام کرنے والی 60,000 خواتین اپنی آمدنی سے محروم ہو جائیں گی۔

افغانستان کے خصوصی نامی نگار، رچرڈ بینٹ کی گذشتہ ماہ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو دی گئی رپورٹ میں ملک میں لڑکیوں اور عورتوں کی حالتِ زار کو "دنیا بھر میں بدترین" قرار دیا گیا۔

بینٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا، "خواتین اور لڑکیوں کے خلاف سنگین، منظم اور ادارہ جاتی امتیازی سلوک طالبان کے نظریے اور حکمرانی کا مرکز اور بنیاد ہے، جس سے یہ خدشات بھی پیدا ہوتے ہیں کہ وہ صنفی عصبیت کے ذمہ دار ہو سکتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں