عدالتی تشویش کے بعد جرم کے اقرار پر مبنی ہنٹر بائیڈن کا معاہدہ ٹوٹ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کا محکمہ انصاف کے ساتھ مجوزہ معاہدہ غیر متوقع طور پر ابتدائی سماعت کے دوران بدھ کو ایک وفاقی جج کی طرف سے اظہار تشویش کے بعد ٹوٹ گیا۔ جج نے ٹیکس اور بندوق کے سنگین الزام سے متعلق معاہدے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کردیا۔

ہنٹر بائیڈن کے وکیل نے کہا کہ ہم نے صدر کے بیٹے کی جانب سے اعتراف جرم کے بدلے میں استغاثہ کی طرف سے پیش کردہ ڈیل کو ٹھکرا دیا ہے۔

53 سالہ ہنٹر بائیڈن نے پہلی بار ولمنگٹن میں وفاقی عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت میں انہوں نے انکم ٹیکس ادا کرنے میں ناکامی اور بغیر لائسنس کے بندوق خریدنے کے معاملے میں دو بدانتظامیوں کے جرم کا اعتراف کرنا تھا۔

لیکن ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی ڈسٹرکٹ جج مارلن نوریکا جو اس کیس کی نگرانی کر رہی ہیں نے معاہدے کی شرائط پر تشویش کا اظہار کیا۔ سی این این کے مطابق سماعت شروع ہونے کے بعد بھی فریقین کے وکلا تقریباً دو گھنٹے تک بحث کرتے رہے۔

اس پیش رفت کے بعد ہنٹر بائیڈن کے کاروباری معاملات پر برسوں سے جاری تفتیش کو کم از کم عارضی طور پر کھلا چھوڑ دیا گیا ہے۔

امریکی صدر کے بیٹے پر ٹیکس کے جرائم کے دو الزامات عائد کیے گئے تھے۔ ان الزامات کے تحت 2017 اور 2018 میں 1.5 ملین ڈالر سے زیادہ کی آمدنی پر ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ کا ٹیکس ادا کرنے میں ناکامی ظاہر کی گئی تھی۔ ہنٹر بائیڈن پر پچھلے مہینے منشیات کے ایک معروف استعمال کرنے والے کے ذریعہ اسلحہ رکھنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں