دوحہ میں ہمارے دو عہدیدار طالبان سے معیشت اور انسانی حقوق پر بات کرینگے: امریکہ

افغانستان کے لیے ایلچی تھامس ویسٹ اور افغانستان میں خواتین و انسانی حقوق کی خصوصی ایلچی رینا امیری دوحہ جائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی حکام رواں ہفتے دوحہ میں طالبان کے وفد اور افغان وزارتوں کے "ٹیکنو کریٹک ماہرین" سے ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات میں معیشت، سلامتی اور خواتین کے حقوق سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

20 سالہ جنگ کے بعد امریکی زیر قیادت غیر ملکی افواج کے اگست 2021 میں افغانستان سے انخلا کے بعد طالبان دوبارہ افغانستان میں برسر اقتدار ہیں اور اب تک دنیا کے کسی ملک نے ان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی تھامس ویسٹ اور افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے حقوق اور انسانی حقوق کے لیے امریکہ کی خصوصی ایلچی رینا امیری دوحہ میں طالبان کے وفد سے ملاقات کریں گے۔ افغانستان کو انسانی امداد فراہم کرنے، سلامتی کے مسائل، خواتین کے حقوق، معاشی استحکام اور منشیات کی پیداوار اور سمگلنگ سے نمٹنے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

وزارت خارجہ کے نائب ترجمان ویدانت پٹیل نے طالبان کے دور حکومت میں افغانستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور خواتین اور لڑکیوں کو پسماندہ کرنے کے بارے میں امریکی خدشات کا اعادہ کیا۔ پٹیل نے کہا کہ قطری دارالحکومت دوحہ میں ہونے والی بات چیت طالبان کو تسلیم کرنے، تعلقات کو معمول پر لانے یا طالبان حکومت کو قانونی حیثیت دینے کی طرف کوئی اشارہ نہیں کرتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ملاقات امریکی پالیسی میں کسی تبدیلی کی نشاندہی نہیں کر رہی۔ ہم بہت واضح ہیں کہ ہم طالبان کے ساتھ اس مناسب طریقے سے نمٹیں گے جو ہمارے مفاد میں ہو گا۔

طالبان حکومت کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ افغانستان کی طرف سے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی وفد کی قیادت کریں گے۔ مذاکرات کے دوران افغانستان کی ترجیح پابندیوں اور بلیک لسٹوں کو ختم کرنا، افغان بینک کے ذخائر کو غیر منجمد کرنا اور افغان فضائی حدود کی خلاف ورزی کو روکنا ہے۔

33
33

امریکی وزارت خارجہ نے کہا کہ تھامس ویسٹ اور قطر کے دورے سے قبل قازقستان جائیں گے جہاں وہ افغانستان کے مسئلے پر بات کرنے کے لیے اس ملک کے علاوہ تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے حکام سے بھی ملاقات کریں گے۔ وہ سول سوسائٹی کے ایسے ارکان سے بھی ملاقات کریں گے جو خواتین کے حقوق پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں