شمالی کوریا نے 50 کی دہائی میں کس عجیب طریقے سے بغاوت ناکام بنائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

کوریا میں 1950 اور 1953 کے درمیان جنگ دنیا بھر میں دیکھی گئی۔ اس جنگ میں شمالی کوریا نے اپنے جنوبی پڑوسی کا سامنا کیا۔ اس جنگ کو بیسویں صدی کے سب سے خونریز تنازعات میں سے ایک کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

برسوں کی جنگ کے نتیجے میں لاکھوں کوریائی ہلاک ہوگئے تھے۔ اس جنگ کے دوران 1949 میں قائم ہونے والے چین اور سوویت یونین نے شمالی کوریا کے لیے مدد کا ہاتھ بڑھانے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ سوویت یونین نے فوجی سازوسامان اور متعدد پائلٹ بھیجے۔ چین نے پیانگ یانگ کی طرف سے لڑنے کے لیے لاکھوں رضاکار بھیجے تھے۔

شمالی کوریا کے رہنما کم ال سنگ کی تصویر
شمالی کوریا کے رہنما کم ال سنگ کی تصویر

بغاوت کی منصوبہ بندی

1955 کے اواخر اور 1956 کے اوائل کے درمیانی عرصہ میں شمالی کوریا کے رہنما کم ال سونگ نے نظام حکومت میں تبدیلیاں لانے کی کوشش کی۔ دریں اثنا مؤخر الذکر نے اپنی حکومت کے ساتھ سوویت نواز دھڑوں اور چین سے چھٹکارا حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ دوسری طرف کم ال سونگ سٹالن کی موت کے بعد سوویت یونین کی طرف سے اختیار کردہ نئی سمتوں سے حیران تھے۔ 1955 کے بعد سے خروشیف نے جوزف سٹالن کی میراث پر حملہ کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی اورڈی سٹالنائزیشن کی پالیسی کے آغاز کا اعلان کردیا۔

کم ال سنگ 1956 میں ماسکو کے دورے کے دوران
کم ال سنگ 1956 میں ماسکو کے دورے کے دوران

1956 کے موسم گرما تک کم ال سونگ کو سٹالن کے بعد کی کمیونسٹ حکومتوں کی نئی پالیسی پر مشاورت کے لیے ماسکو کا دعوت نامہ موصول ہوا۔ ملک سے اپنی غیر موجودگی کے دوران کم ال سونگ کو شمالی کوریا میں سوویت محاذ سے وابستہ پاک چانگ اوک اور چینیوں کے ساتھ یانان فرنٹ کے حامی چو چانگ اِک کی قیادت میں ایک سازش کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

منصوبے کے مطابق شمالی کوریا کی حکومت کے اندر ماسکو اور بیجنگ کے حامیوں نے مرکزی کمیٹی کے اجلاس کے دوران شمالی کوریا کے رہنما کم ال سونگ کے خلاف الزامات عائد کرنے پر اتفاق کیا۔ ان الزامات میں عوام کا پیسہ ضائع کرنا، ملکی معاملات سے لاتعلقی، لیڈر کی تعریف کرنے کے کلچر کو فروغ دینا اور سیاسی اصلاحات کو نظر انداز کرنا شامل تھا۔

کم ال سنگ کی پبلسٹی تصویر
کم ال سنگ کی پبلسٹی تصویر

بغاوت کیسے ناکام ہوئی؟

وطن واپسی پر کم ال سونگ نے مرکزی کمیٹی کے اجلاس کے ساتھ مل کر اپنے مخالفین کی طرف سے منعقد کی گئی بغاوت کے بارے میں خفیہ معلومات حاصل کیں۔ جواب میں شمالی کوریا کے رہنما نے اس بغاوت کا مقابلہ کرنے کا منصوبہ تیار کیا۔

30 اگست 1956 کو مرکزی کمیٹی کے اجلاس کے دوران ’’ژو شانگ ای‘‘ ایک تقریر کرنے گئے جس میں انہوں نے کم ال سونگ کے خلاف بہت سے الزامات لگائے۔ ان الزامات میں صنعت میں عدم دلچسپی، زراعت کو نظر انداز کرنے اور قحط کا باعث بننے کا الزام لگایا گیا۔ تقریر کے درمیان کم ال سونگ کے حامیوں نے تقریر کو مسترد کرتے ہوئے مرکزی کمیٹی کے اجلاس میں خلل ڈالا اور ہال کے اندر شدید نعرے بازی کی۔ جس کی وجہ سے ’’ژو شانگ ای‘‘ کی تقریر ہال میں ناقابل سماعت ہو گئی۔ دوسری جانب کم ال سونگ کے حامیوں نے ماسکو اور بیجنگ کی دو حامی ٹیموں پر ملک سے غداری اور تخریب کاری کا الزام لگا دیا۔ اجلاس کے اختتام پر اکثریت نے کم ال سونگ کے حق میں ووٹ دیا جنہوں نے جلد ہی اپنے مخالفین کے خلاف انتقام کی مہم شروع کر دی۔ اس کے بعد بہت سے مخالفین اپنی جان کی امید میں عوامی جمہوریہ چین بھاگ گئے۔

سوویت رہنما جوزف اسٹالن کی تصویر
سوویت رہنما جوزف اسٹالن کی تصویر

ستمبر 1956 کے دوران شمالی کوریا میں سوویت اور چینی حکام نے ماسکو اور بیجنگ کے حامی مخالفین کا تعاقب ختم کرادیا۔ یہ سلسلہ چند مہینوں کے لیے رک گیا لیکن 1957 تک سیکورٹی کی سرگرمیاں دوبارہ لوٹ آئیں۔ 1958 کے آغاز کے ساتھ، ’’کم ال سونگ‘‘ اپنے مخالف یانان محاذ کو مکمل طور پر ختم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں