روس نے بحیرہ اسود میں سول بحری جہازوں سے متعلق دھمکی دی ہے: یوکرین

یوکرین نے روسی جنگی بحری جہاز کی جانب سے یوکرین کی بندرگاہ کے قریب ایک سویلین جہاز کو بھیجا گیا انتباہی نوٹ پیش کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یوکرینی صدر کے دفتر کے ڈائریکٹر آندرے یرماک نے کہا ہے روس بحیرہ اسود کے پانیوں میں سول بحری جہازوں کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ یوکرین نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ روس کے دہشتگردانہ ہتھکنڈوں کی مذمت کرے۔

روس نے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ اور ترکی کی ثالثی میں ہونے والے اس معاہدے سے دستبرداری اختیار کر لی تھی جس کے تحت یوکرین کو بحیرہ اسود کے ذریعے محفوظ طریقے سے اناج برآمد کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ روس نے خبردار کیا تھا کہ یوکرین کی بندرگاہوں کی طرف جانے والے بحری جہازوں کو فوجی اہداف کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔

آندرے یرمک نے ٹیلیگرام ایپ پر لکھا کہ روسی جنگی بحری جہاز بحیرہ اسود کے پانیوں میں سول بحری جہازوں کو دھمکیاں دیتے ہیں۔ یہ بین الاقوامی سمندری قانون کے تمام اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

ایک الگ بیان میں یوکرین کی بارڈر گارڈ سروس نے کہا کہ اس نے جمعرات کو یوکرین کی بندرگاہ کے قریب ایک سویلین جہاز کو روسی جنگی جہاز کی طرف سے بھیجی گئی وارننگ کا پتہ چلایا ہے۔ بیان میں بحری جہاز یا بندرگاہ کا نام نہیں بتایا گیا۔

بیان میں روسی فریق کے حوالے سے کہا گیا ہے میں آپ کو یوکرین کی بندرگاہوں پر جہاز رانی پر پابندی کے خلاف خبردار کرتا ہوں۔

بیان میں روسی فریق کے حوالے سے مزید کہا گیا کہ روس کی طرف سے یوکرین کو کسی بھی کھیپ کی منتقلی کو فوجی کھیپ کی ممکنہ منتقلی کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ مزید کہا گیا کہ جس ملک کا پرچم لہرا رہا ہو وہ یوکرین کے ساتھ تنازع میں فریق تصور کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں