سویڈش مائیگریشن ایجنسی قرآن سوزی کے مرتکب شخص کے رہائشی پرمٹ کا جائزہ لے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

کیپشن: حزب اللہ کا ایک حامی لبنان میں جنوبی بیروت کے مضافاتی علاقے دحیہ میں نمازِ جمعہ کے بعد ہونے والی ایک ریلی میں قرآنِ پاک اٹھائے ہوئے ہے۔

سویڈش مائیگریشن ایجنسی کا کہنا ہے کہ وہ ایک عراقی پناہ گزین کے اقامتی پرمٹ کا دوبارہ جائزہ لے رہی ہے جو حالیہ ہفتوں میں اسٹاک ہوم میں قرآن کی کئی دفعہ بے حرمتی کا مرتکب پایا گیا ہے، جس سے دنیا بھر کے مسلمانوں کو تکلیف پہنچی ہے۔

متنازعہ شخص نے گذشتہ ماہ سٹاک ہوم کی مرکزی مسجد کے باہر قرآن مجید کا ایک نسخہ نذرِ آتش کیا تھا اور جولائی میں عراقی سفارت خانے کے سامنے ایک مظاہرے میں بھی اس نے کہا تھا کہ وہ کتابِ مقدس کو جلا دے گا، لیکن ایسا کیا نہیں۔

مائیگریشن ایجنسی نے کہا کہ جب اسے سویڈش حکام کی جانب سے معلومات موصول ہوئیں جنہوں نے اس بات کی جائزہ لینے کی وجہ بتائی ہے کہ آیا سویڈن میں اس شخص کی حیثیت کو منسوخ کیا جانا چاہیے تو وہ اس کی امیگریشن کی حیثیت کا دوبارہ جائزہ لے رہی ہے۔

ایجنسی کے ایک ترجمان نے رائٹرز کو شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دیئے گئے ایک بیان میں کہا کہ "یہ ایک قانونی اقدام ہے جو اس وقت اٹھایا جاتا ہے جب سویڈش مائیگریشن ایجنسی کو ایسی معلومات موصول ہوں اور کیس کے نتائج کے بارے میں کچھ کہنا ابھی قبل از وقت ہو گا۔"

سویڈش نیوز ایجنسی ٹی ٹی کے مطابق اس شخص کے پاس سویڈن میں عارضی اقامتی پرمٹ ہے، جس کی معیاد 2024 میں ختم ہونے والی ہے۔

حالیہ ہفتوں میں مظاہروں کے بعد بین الاقوامی سطح پر سویڈن خبروں کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کو نقصان پہنچایا اور جلایا گیا ہے۔

چند ہفتے قبل سویڈن اور ڈنمارک میں قرآن پرہونے والے حملوں سے ترکی سمیت بہت سے مسلم ممالک کو اذیت پہنچی ہے جن کی حمایت کی سویڈن کو تنظیم معاہدہ شمالی اوقیانوس میں شامل ہونے کے لیے ضرورت ہے۔ 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد اس تنظیم میں شمولیت اسٹاک ہوم کا ہدف ہے۔

سٹاک ہوم پولیس کو ایسے مظاہروں کی درخواستیں بھی موصول ہوئی ہیں جن میں دیگر مذہبی کتب مثلاً مسیحی اور عبرانی بائبل کو نذرِ آتش کرنا بھی شامل ہے جس کی بنا پرکئی لوگوں نے سویڈن کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

سویڈن کی عدالتوں نے فیصلہ دیا ہے کہ پولیس مقدس صحائف کو جلانے سے روک نہیں سکتی لیکن وزیر اعظم الف کرسٹرسن کی حکومت نے جولائی کے آغاز میں کہا تھا کہ وہ اس بات کا جائزہ لے گی کہ آیا پبلک آرڈر ایکٹ میں تبدیلی کی کوئی وجہ ہے یا نہیں جو پولیس کے لیے قرآن سوزی کو روکنا ممکن بنائے۔

قرآن سوزی کرنے والا شخص تبصرہ کے لیے فوری طور پر دستیاب نہیں تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں