نیجر میں فوج 15 دن کے اندر بیرکوں میں واپس چلی جائے: افریقی یونین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

افریقی یونین نے نیجر میں بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قابض ہونے والی فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 15 دن کے اندر اندر اپنی بیرکوں میں لوٹ جائے اور ملک میں آئینی اختیار بحال کرے۔

افریقی یونین نے نیجر میں منتخب حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کے بارے میں اجلاس میں غورکیا گیا ہے۔اس کے بعد ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ’’افریقی یونین کی امن اور سلامتی کونسل فوجی اہلکاروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ فوری اورغیرمشروط طور پر اپنی بیرکوں میں واپس چلے جائیں اور زیادہ سے زیادہ پندرہ دن کے اندر آئینی اختیار بحال کریں‘‘۔

افریقی یونین نے منتخب حکومت اوراس کے صدر محمد بازوم کا تختہ الٹنے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور افریقا میں فوجی بغاوتوں کے 'خطرے کے دوبارہ ابھرنے' پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

نیجر کی فوجی قیادت نے صدر بازوم کو بدھ کو حراست میں لے لیا تھا اور بعد ازاں انھوں نے سنہ 2011 سے صدارتی محافظوں کے سربراہ جنرل عبدالرحمٰن تیانی کوحکومت کا نیا قائد نامزد کیا تھا۔

انھوں نے فوجی بغاوت کا یہ جواز یہ پیش کیا ہے کہ ملک میں بگڑتی ہوئی سلامتی کے ردعمل میں اقدام کیا گیا ہے لیکن بین الاقوامی برادری نے اسے اقتدار پر قبضہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں