یورپی یونین نے فوجی بغاوت کے بعد نیجر کے ساتھ تمام سکیورٹی تعاون معطل کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

یورپی یونین نے نیجر میں فوجی بغاوت کے بعد فوری طورپراس کے ساتھ اپنی مالی مدد اور سکیورٹی پر تعاون معطل کر دیا ہے۔

نیجر میں فوجی بغاوت کے رہنماؤں نے جمعہ کے روز صدر محمد بازوم کو معزول کردیا ہے اور جنرل عبدالرحمٰن تیانی کو ریاست کا نیا سربراہ قرار دیا ہے۔

یورپی یونین، امریکا اور دیگرممالک نے بازوم کی حراست سے غیرمشروط رہائی اور ملک میں جمہوری نظم و نسق کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل نے ایک بیان میں کہا کہ نیجر کے ساتھ بجٹ امداد کے فوری خاتمے کے علاوہ، سکیورٹی کے شعبے میں تعاون کے تمام اقدامات فوری طور پر غیر معیّنہ مدت کے لیے معطل کر دیے گئے ہیں۔

نیجر مغربی امداد کا ایک بڑا وصول کنندہ ملک ہے اور سب صحارا افریقا سے غیر قانونی نقل مکانی کو روکنے میں معاونت میں یورپی یونین کا ایک اہم شراکت دار ہے۔نیجرمیں فوجی تربیتی مشن کے لیے یورپی یونین کے مٹھی بھر فوجی اہلکار بھی موجود ہے۔

یورپی یونین کی ویب سائٹ کے مطابق، تنظیم نے 2021-2024ء کے دوران میں نیجر میں حکمرانی، تعلیم اور پائیدار ترقی کو بہتر بنانے کے لیے اپنے بجٹ سے 50 کروڑ 30 لاکھ یورو (554 ملین ڈالر) مختص کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں