سعودی ویژن 2030

سعودی عرب کےانسانی حقوق کمیشن کی سربراہ کا اسمگلنگ کی روک تھام کے عزم کا اعادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے انسانی حقوق کمیشن کی صدر ڈاکٹر ہلا بنت مزید التویجری نے مختلف قومی اقدامات کے ذریعے انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے مملکت کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ان اقدامات کا مقصد انسانی اسمگلروں کو روکنا اور متاثرین کو تحفظ مہیا کرنا ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق 30 جولائی کو انسانی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن کے موقع پر جاری ایک بیان میں ڈاکٹرالتویجری نے انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے مملکت کے قومی ایکشن پلان 2021-2023 پر روشنی ڈالی۔ یہ ملک میں انسانی اسمگلنگ کے خلاف جنگ کا ایک اہم جزو ہے۔

انسداد اسمگلنگ اقدام، سعودی ویژن 2030 کا حصہ ہے۔روک تھام، تحفظ، استغاثہ اور شراکت داری اس کے چار ستون ہیں تاکہ اسمگلنگ کے خلاف مملکت کے ردعمل کو مضبوط بنایا جاسکے اور بالخصوص خواتین اور بچوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔

سعودی عرب نے اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اورجرائم (یو این او ڈی سی)، انٹرنیشنل آرگنائزیشن آن مائیگریشن (آئی او ایم) جیسی بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ شراکت داری کی ہے اورانسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے کارکنوں کی قومی کمیٹی سمیت متعدد این جی اوز کے ساتھ معاہدوں پر دست خط کیے ہیں۔

کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں معاشی مواقع نے ہمسایہ ممالک سے تارکین وطن کارکنوں کو اپنی طرف راغب کیا ہے۔قریباً ایک کروڑ تارکین وطن ملک میں مختلف شعبوں میں ملازمتیں کر رہے ہیں اور وہ اپنے اہل خانہ اور کمیونٹیوں کی مدد کرکے قابل قدر خدمات مہیّا کر رہے ہیں۔

یو این او ڈی سی کے مطابق اگرچہ اس طرح کا انتظام عام طور پر تارکین وطن کے ساتھ ساتھ میزبان ملک دونوں کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے ، لیکن کچھ تارکین وطن انسانی اسمگلنگ کے خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔

انسانی اسمگلنگ کی لعنت سے نمٹنے اور کمزور افراد کو حفاظتی جال میں لانے کے لیے سعودی عرب باقاعدگی سے افرادی قوت کے اہم ذرائع سے متعلق ممالک کے ساتھ ملاقاتوں کا اہتمام کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس نے اپنی وزارت صحت اور وزارت تعلیم کو انسانی اسمگلنگ سے نمٹنے کے لیے قومی کمیٹی میں شامل کیا ہے۔

انسانی اسمگلنگ کے بارے میں یو این او ڈی سی کی 2022 کی گلوبل رپورٹ کے مطابق 2019 کے مقابلے میں 2022 میں مشرق اوسط اور شمالی افریقا کے خطے میں انسانی اسمگلنگ میں 40 فی صد کمی ریکارڈ کی گئی۔ متاثرین کی تعداد 20 سال میں پہلی بار کم ہوئی ہے۔

خطے میں سرحد پار اسمگلنگ کے متاثرین کی تعداد میں 70 فی صد اور جبری مشقت کے لیے اسمگلنگ کے متاثرین کی تعداد میں 73 فی صد کمی واقع ہوئی ہے۔ انسانی اسمگلنگ اور اس سے متعلقہ جرائم میں ملوث افراد کی تعداد میں 16 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ڈاکٹر التویجری کے مطابق 2023 ء کا موضوع ’اسمگلنگ کے ہر شکار تک پہنچیں‘ کسی کو پیچھے نہ چھوڑیں' مملکت کے تزویراتی مقاصد میں سے ایک ہے جس کا مقصد انسانی اسمگلنگ کے تمام متاثرین کو ایک مربوط قومی نظام کے ذریعے تحفظ اور مدد مہیا کرنا ہے جو بین الاقوامی معیارات کی تعمیل کرتا ہے اور اسمگلروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کو مضبوط بناتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں