ایران وسعودی عرب

سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی بحالی سے باہمی فوائد حاصل ہوں گے: ایرانی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کو یقین ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی بحالی سے دونوں ممالک کے ساتھ ساتھ پورے خطے کو فائدہ پہنچے گا۔

یہ بات الریاض میں ایران کے حال ہی میں مقرر کردہ سفیر علی رضا عنایتی نے خبر رساں ایجنسی تسنیم کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے اپنی گفتگو میں تہران اور الریاض کے درمیان مفاہمت سے ایران اور سعودی عرب کے علاوہ پورے خطے اور اس سے ماورا اس کے ممکنہ فوائد پر روشنی ڈالی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی معاہدے سے دونوں ممالک اور خطے کو فائدہ ہوگا۔

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’’دونوں ممالک کے درمیان تجدید شدہ تعلقات علاقائی امن، استحکام اور آزادی پر اہم اثرات مرتب کر سکتے ہیں اور خطے میں ’’مکالمے کی ثقافت‘‘ کو بھی فروغ دے سکتے ہیں‘‘۔

سعودی عرب اور ایران نے مارچ میں اعلان کیا تھا کہ وہ چین کی ثالثی میں سفارتی تعلقات بحال کرنے کے معاہدے پر پہنچ گئے ہیں۔دونوں ملکوں کے درمیان سات سال تک سفارتی تعلقات منقطع رہے تھے۔

معاہدے کے تحت الریاض اور تہران نے ایک دوسرے کے علاقوں میں سفارت خانے اور قونصل خانے دوبارہ کھولنے اور 20 سال قبل طے شدہ سکیورٹی اور اقتصادی تعاون کے معاہدوں پر عمل درآمد پر اتفاق کیا تھا۔

ایران نے گذشتہ ماہ الریاض میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا تھا۔ تہران میں سعودی سفارت خانے کو دوبارہ کھولنے کا نظام الاوقات ابھی تک واضح نہیں ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے 2016 میں تہران میں اپنے سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پر حکومت کے حامی مظاہرین کے حملے کے بعد ایران کے ساتھ تعلقات منقطع کر دیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں