خواتین پر تشدد کے خلاف بلغاریوں کا احتجاج، بہتر تحفظ کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

کیپشن: صوفیہ میں گھریلو تشدد کے خلاف 31 جولائی 2023 کو مظاہرے میں شریک ایک خاتون نے عدالتی اصلاحات کے مطالبے پر مبنی پلے کارڈ اٹھا رکھا ہے


بلغاریہ کے ہزاروں افراد پیر کے روز سڑکوں پر نکل آئے اور خواتین پر ہونے والے تشدد کے خلاف احتجاج کیا جب ایک نوعمر لڑکی کو سینکڑوں جگہ پر کاٹے جانے کا واقعہ پیش آیا۔ اس دلخراش واقعے نے بلقان قوم کو چونکا دیا۔

صوفیہ میں تقریباً 5000 افراد نے مظاہرہ کیا جب کہ ملک کے اُن دیگر شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے جہاں خواتین پر تشدد کے خلاف ریلیاں کم ہی ہوتی ہیں۔

مذکورہ کیس میں 18 سالہ نوجوان لڑکی پر ایک ماہ قبل حملہ ہوا تھا۔ اس نے کہا کہ "اس کے سابق بوائے فرینڈ نے اسے سینکڑوں جگہ پر کاٹا، اس کی ناک توڑی اور سر کے بال مونڈ ڈالے۔"

مرکزی شہر سٹارا زگورا کی ایک عدالت نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے لڑکی کے زخموں کو "معمولی" قرار دیا اور 26 سالہ نوجوان کو حراست میں لینے کا حکم نہیں دیا۔

حکام نے دباؤ کے تحت تب سے اس شخص کو حراست میں لیا ہوا ہے جو خاتون پر حملہ کرنے اور اسے دھمکی آمیز ٹیکسٹ پیغامات بھیجنے سے انکاری ہے۔

پیر کے روز مظاہرین نے عدالتی احکامات پر نظر ثانی اور خواتین کے لیے بہتر تحفظ کا مطالبہ کیا۔ ان کے پوسٹرز پر "ایک بھی عورت اور نہیں" لکھا تھا۔

انسانی وسائل کے شعبے میں کام کرنے والی 39 سالہ ایمیلیا اسٹیوانووا نے اے ایف پی کو بتایا کہ "یہ کیسے ممکن ہے کہ اس طرح کی ایذا رسانی کو 'ہلکی جسمانی چوٹ' کا نام دیا جائے... عدالت کا ردعمل چونکا دینے والا ہے۔"

مظاہرے میں شریک ایک 33 سالہ پینٹر جس نے اپنا نام صرف آئیوان بتایا، نے کہا کہ "گھریلو تشدد پر روایتی برداشت اور اداروں کی غیر فعالیت کو تبدیل ہونا چاہیے۔ یہ تبدیلی شروع ہو گئی ہے لیکن معاشرے کو اس میں شریک ہونے کی ضرورت ہے۔"

پولیس کے اعداد وشمار کے مطابق اس سال کے پہلی سہ ماہی میں اٹھارہ خواتین کو مشتبہ طور پر ان کے جاننے والے مردوں نے قتل کیا لیکن کارکنوں کا اندازہ ہے کہ متاثرین کی تعداد اس سے زیادہ ہے۔

وہ قانون سازی میں ترمیم کے لیے لڑ رہے ہیں تاکہ خواتین کو بدسلوکی کرنے والے ساتھیوں یا سابق ساتھیوں سے بہتر طور پر تحفظ فراہم کیا جائے۔

بلغاریہ اب تک استنبول کنونشن کی توثیق کرنے سے انکاری ہے جو خواتین کو تشدد سے بچانے والا ایک اہم بین الاقوامی معاہدہ ہے۔

جون میں یورپی یونین نے اس کنونشن میں شمولیت اختیار کی جس میں یورپی یونین کے اُن رکن ممالک کے لیے کچھ ذمہ داریوں کو بڑھایا گیا جو اس کی توثیق کرنے سے انکار کرتے ہیں۔

بلغاریہ جو 2007 سے یورپی یونین کا رکن ہے اور دیگر ارکان جنہوں نے اس کی توثیق نہیں کی ہے، انہیں استنبول کنونشن میں لفظ "صنف" کے استعمال پر اعتراض ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں