سعودی وزیرخارجہ کی ڈینش ہم منصب سے گفتگو، قرآن کی بے حرمتی کی مذمت کا اعادہ

ڈنمارک انتہاپسندانہ کارروائیوں کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرے،ایسی اشتعال انگیزیاں دنیا بھر کے مسلمانوں کو مشتعل کرتی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ڈینش ہم منصب لارس لوکے راسموسن سے ٹیلی فون پر گفتگومیں قرآن مجید کی بے حرمتی کے واقعات کی مذمت کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ سعودی عرب ایسے واقعات کو مسترد کردیا ہے۔

شہزادہ فیصل نے ڈنمارک پر زور دیا ہے کہ وہ اس طرح کی انتہاپسندانہ کارروائیوں کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ایسی اشتعال انگیز کارروائیاں دنیا بھر کے مسلمانوں کو مشتعل کرتی ہیں۔

انھوں نے ڈنمارک کے وزیرخارجہ کو یہ بھی بتایا کہ ’’انتہاپسندوں نے نفرت کو ہوا دینے کے لیے اظہار رائے کی آزادی کا استحصال کیا ہے‘‘۔انھوں نے مزید کہا کہ’’ وہ (انتہاپسند) نہ صرف دین اسلام پر تنقید کرناچاہتے ہیں بلکہ ’’مسلمانوں کو مشتعل‘‘ بھی کرنا چاہتے ہیں‘‘۔

شہزادہ فیصل نے راسموسن سے گفتگو میں کہا کہ ’’اس طرح کی کارروائیوں سے فائدہ اٹھانے والے صرف انتہاپسند ہیں‘‘۔

راسموسن نے قرآن کو جلانے کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ڈنمارک پہلے ہی اس طرح کی کارروائیوں کی مذمت کرچکا ہے۔

سویڈن اور ڈنمارک میں حالیہ ہفتوں کے دوران میں متعدد مظاہرے کے دوران میں قرآن مجید کے نسخوں کو نذر آتش کیا گیا یا انھیں نقصان پہنچایا گیا ہے جس پر اسلامی ممالک میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی اور انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نارڈک حکومتیں قرآن مجید کو آگ جلانے سے بازرہیں۔

پیرکے روز سویڈن میں قرآن پاک کو نذرآتش کرنے کے مزید واقعات پیش آئے ہیں اور دونوں ممالک نے کہا کہ وہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیےاس طرح کی کارروائیوں کو قانونی طور پر محدود کرنے کے طریقوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

57 رکن ممالک پر مشتمل اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے قرآن مجید کی بے حرمتی کے حالیہ واقعات پر تبادلہ خیال کے لیے ایک غیر معمولی اجلاس طلب کیا اور مسلمانوں کی مقدس کتاب کو نذرآتش کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔

تنظیم نے رکن ممالک پر زوردیا ہے کہ وہ ان ممالک میں جہاں قرآن کی بے حرمتی کی جا رہی ہے، ان کے خلاف سیاسی یا معاشی مناسب کارروائی کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں