ماسکو پر یوکرین کے ڈرون حملے کے جواب میں روس سخت اقدامات نہ کرے: یورپی یونین

یوکرین کا ڈرون حملے میں ماسکو میں دوعمارتوں اور کریمیا میں گولہ بارود کے ڈپو کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یورپی یونین نے روس پر زور دیا ہے کہ وہ یوکرین کے ماسکو کے وسط میں واقع عمارتوں پر ڈرون حملے کے بعد کشیدگی میں اضافہ نہ کرے۔

روس کی سرکاری خبررساں ایجنسی تاس کے مطابق یورپی یونین کی خارجہ امور کی ترجمان نبیلہ مصرعلی نے برسلز میں ایک بریفنگ میں کہا کہ روس کواس ڈرون حملے کو مزید کشیدگی کے بہانے کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

نبیلہ مصرعلی کے مطابق یورپی یونین کے پاس ڈرونز کی اصل اور واقعہ کی تفصیل کے بارے میں کوئی آزادانہ معلومات نہیں۔انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ یوکرین کو یورپی یونین کے مہیّا کردہ ہتھیاروں کو صرف اپنے علاقے کے دفاع کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔

انھوں نے واضح کیا کہ یورپی یونین کے رکن ممالک کی طرف سے یوکرین کومہیّاکردہ فوجی سازوسامان صرف اس کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے دفاع کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق یوکرین نے جولائی کے اختتام پر ایک ڈرون حملہ کیا ہے جس میں ماسکو کے وسط میں واقع دو عمارتوں اور جزیرہ نما کریمیا میں گولہ بارود کے ڈپو کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

یوکرین کے ایک دفاعی ذریعے نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ماسکو پر حملہ کیف کی ملٹری انٹیلی جنس کی جانب سے کیا جانے والا ایک 'خصوصی آپریشن' تھا۔ ڈرون حملے کے بعد روس کی وزارت دفاع نے سخت جوابی اقدامات کا عزم ظاہر کیا تھا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکا نے یوکرین کے اقدامات پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ روس کے اندر حملوں کی حمایت نہیں کرتا۔وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرین ژاں پیئر نے ایک پریس بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا:’’عام معاملہ کے طور پر ہم روس کے اندر حملوں کی حمایت نہیں کرتے ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں